جرم ثابت ہوا تو کڑی سے کڑی سزا دیں گے: شہریار خان

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے بیٹسمین شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرکے وطن واپس بھیج دیا تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ بکیز سے روابط کے الزامات میں معطل کیے جانے والے پاکستانی کرکٹرز کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاہم جرم ثابت ہونے پر کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔

لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم جن پر الزام عائد کر رہے ہیں ان کا بھی موقف سنیں۔‘

٭ پاکستانی کرکٹ کی بہتری کے لیے کانفرنس کا منصوبہ منسوخ

* ’فوج فائنل کے لاہور میں انعقاد میں مکمل تعاون کرے گی‘

* ’کیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟‘

انھوں نے بتایا کہ جن دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے انھوں نے بدھ کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی کے انسداد بدعنوانی یونٹ کے سربراہ کرنل (ر) اعظم سے ملاقات کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے کوشش کی جائے گی کہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے لیکن اگر ان کھلاڑیوں نے جرم تسلیم کر لیا تو اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

شہریار خان نے واضح کیا کہ بدعنوانی کے مرتکب کھلاڑیوں کو کڑی سزا دی جائے گی۔

’ہماری طرف سے زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے گی۔ تاکہ آئندہ کوئی ایسا کام نہ کرے۔ ان کے ساتھ کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی۔ ‘

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز کے اگلے ہی دن بکیز سے روابط کے الزام میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے بیٹسمین شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کر کے وطن واپس بھیج دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر یار خان نے کہا کہ بدعنوانی کے مرتکب کھلاڑیوں کو کڑی سزا دی جائے گی

شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’پی سی بی حکام کو شک تھا اس لیے کرکٹرز کو محتاط رہنے کو کہا گیا تھا کہ اگر کوئی بک میکرز ان سے رابطہ کرتا ہے تو اپنے سکیورٹی افسر کو مطلع کریں۔ ‘

سکیورٹی خطرات کے باعث پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کیے جانے سے متعلق خدشات پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ فائنل یہیں ہو اور ہم نے حکومت کو بھی اس بارے میں بتایا ہے۔ میں نے آرمی چیف قمر باجوہ کا بھی ان کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا ہے ۔‘

شہریار خان نے بتایا کہ ’کچھ غیر ملکی مبصرین بھی یہ فائنل دیکھنے آ رہے ہیں اور سکیورٹی کا جائزہ لیں گے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ ایک اہم موقع ہے اور اسی کے بعد مزید بین الاقومی کرکٹ کی راہیں کھلیں گی۔‘

منگل کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ فوج لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے شیڈول کے مطابق انعقاد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی

پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی بھی کہہ چکے ہیں کہ کوئی غیر ملکی کھلاڑی آئے یا نہ آئے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی ہو گا۔

خیال رہے کہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن نے پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے قبل ہی غیر ملکی کرکٹرز سے کہا تھا کہ وہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے لاہور جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں سکیورٹی کے حالات اب بھی اچھے نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں