پی ایس ایل 'میچ ہوتا ہے تو چہروں پر مسکراہٹیں پھیل جاتی ہیں'

پی ایس ایل میچ تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption یہاں ایسے افراد بھی دکھائی دیتے ہیں جو ایک دوسرے کی زبان تو نہیں سمجھ پاتے لیکن مسکراہتے ہوئے اپنی بات دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں

میچ شروع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل گراؤنڈ کے باہر قطار در قطار آنے والے مداحوں کے چہروں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ اورگراؤنڈ میں داخل ہونے کی جلدی تھی۔

بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سب کے سب ہاتھوں میں ٹکٹ تھامے قطار میں کھڑے ایک دوسرے سے کہتے سنائی دے رہے تھے: 'چلو چلو جلدی کرو میچ شروع ہونے والا ہے۔'

سندھی، پنجابی، پٹھان اور بلوچی سب کے سب ایک ساتھ ٹولیوں کی شکل میں گراؤنڈ کے باہر موجود تھے، کوئی سیلفی بنا رہا تھا تو کوئی گروپ فوٹو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہا تھا تاکہ ان کے بقول 'پاکستان میں ہمارے گھر والے دیکھ سکیں۔'

انھی مداحوں میں بعض ایسے بھی ہیں تھے جو خود تو میچ نہیں دیکھتے لیکن باہر کھڑے ہو کر مختلف اشیا فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Psl
Image caption پی ایس ایل کے میچز میں سبھی کو دلچسپی ہے

پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے ایک ایسے ہی بزرگ محمد احمد دکھائی دیے جو میدان کے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ تک چکر لگا رہے تھے اور آوازیں لگا رہے تھے: 'ہمارا پرچم عظیم پرچم۔'

محمد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پی ایس ایل کے یہاں آنے سے مالی فائدہ تو ہوتا ہی ہے لیکن جب بھی میچ ہوتا ہے تو سب کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل جاتی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'پی ایس ایل یہاں محبت کا پیغام بن گئی ہے، جسے پھیلانا چاہیے۔'

شاید محمد احمد کا یہ کہنا درست بھی ہے کیونکہ یہاں ایسے افراد بھی دکھائی دیتے ہیں جو ایک دوسرے کی زبان تو نہیں سمجھ پاتے لیکن اپنی بات مسکراتے ہوئے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Psl
Image caption مداح رنگ و نسل اور شہریت کے بارے میں سوچے بنا ایک ہی قطار میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھتے ہیں

گیٹ پر کھڑے ایک بنگلہ دیشی شہری نے کچھ ایسا ہی کیا، جب چند انگلش بولنے والے افراد نے خواتین کے لیے مختص راستے سے گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

بنگلہ دیشی شہری نے مسکراہتے ہوئے ان کی جانب رکنے کا اشارہ کیا اور کہا: 'نو نو، لیڈیز، لیڈیز' اور پھر ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ دوسری قطار میں آئیں۔

جواب میں ان غیر ملکیوں نے اونچی آواز میں قہقہ لگاتے ہوئے کہا 'وی آر برادر سسٹرز۔'

پاکستان سپر لیگ میں صرف غیر ملکی کھلاڑی ہی نہیں کھیل رہے بلکہ ان ٹیموں کو سپورٹ کرنے والوں میں غیر ملکی مداح بھی شامل ہیں جو رنگ و نسل اور شہریت کے بارے میں سوچے بنا ایک ہی قطار میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں