ٹاس جیت کر بولنگ ہی کیوں؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption پی ایس ایل میں ٹیمیں ٹاس جیت کر بولنگ کو ترجیح دیتی ہیں

ایئن چیپل نے کبھی کہا تھا کہ ٹاس جیتنے والی ٹیمیں دس میں سے نو بار پہلے بیٹنگ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، دسویں بار وہ بولنگ کا سوچتی ہیں لیکن کرتی پھر بھی بیٹنگ ہی ہیں۔

چیپل کی یہ تھیوری اولڈ سکول کرکٹ پہ تو صادق ٹھہرتی تھی مگر ٹی 20 لیگز نے دیگر بنیادی تصورات کی طرح اس تھیوری کو بھی چیلنج کیا ہے۔ اب تک کھیلے گئے پی ایس ایل 2 کے تمام میچوں میں کسی بھی کپتان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ نہیں کیا۔

کرک انفو کے مطابق 2016 میں کھیلے گئے ٹی 20 میچوں میں ٹاس جیتنے والی 72 فیصد ٹیموں نے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ 2010 سے 2016 تک اس رجحان میں 48 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

حالیہ بگ بیش میں ہمیں یہ رجحان بڑھتا نظر آیا۔ گذشتہ سال آئی پی ایل میں بھی ٹاس جیتنے والی ٹیموں نے زیادہ تر پہلے بولنگ کا فیصلہ ہی کیا۔

اس رجحان میں اضافے کی ظاہری وجوہات تو یہی ہیں کہ میچ کی دوسری اننگ تک ہوا میں نمی بڑھ چکی ہوتی ہے جس کے سبب کنڈیشنز بالنگ کے لیے سازگار نہیں رہتیں۔ اور پھر ٹی 20 بولروں کی نہیں، بیٹسمین کا کھیل ہے تو جب بیٹنگ سائیڈ کے سامنے ایک واضح ہدف ہو تو اس کے تعاقب کے لیے گیم پلان تشکیل دینا آسان ہو جاتا ہے جب کہ فیلڈنگ کیپٹن کے لیے اپنے بولروں کا درست استعمال اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔

لیکن اگر ہم حالیہ پی ایس ایل کو سامنے رکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وجوہات اپنی جگہ، لیکن اس کی بڑی وجہ وہ نفسیاتی فائدہ ہے جو بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ نفسیاتی برتری خاص طور پر میچ کے آخری پانچ اووروں میں نظر آتی ہے۔ آخری پانچ اووروں میں اکثر میچ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے جس میں زیادہ تر فائدہ بیٹنگ سائیڈ کو ہی ہوتا ہے۔

مثلاً اسلام آباد اور لاہور کے درمیان میچ کے پہلے 35 اووروں میں ہم نے یہ دیکھا کہ اسلام آباد ٹاس ہارنے کے باوجود کنٹرول میں تھا لیکن آخری پانچ اووروں میں سنیل نرائن کی پاور ہٹنگ کے سامنے مصباح کے سب پلان دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اسی طرح ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ٹی 20 کے بہترین کپتان ڈیرن سیمی بھی بڑے ہدف کے دفاع میں ناکام رہے۔

بعینہ کل شب کھیلے گئے میچ میں بھی جب سنگاکارا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تو مصباح کا یہ کہنا تھا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو وہ بھی یہی کرتے کیونکہ دوسری اننگز میں فیلڈنگ کیپٹن کے لیے بولروں کا استعمال اور پلاننگ نہایت مشکل ہو جاتی ہے۔

ون ڈے کرکٹ میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والے کپتان کو بھرپور اندازہ ہوتا ہے کہ اس وکٹ پہ کتنے رنز کافی ہوں گے اور بولنگ سائیڈ بھی یہ جانتی ہے کہ انھیں اپوزیشن کو کتنے ٹوٹل تک محدود رکھنا ہے۔ مگر ٹی 20 میں نہ تو بیٹنگ سائیڈ کو معلوم ہوتا ہے کہ وننگ ٹوٹل کیا ہو گا نہ ہی بولنگ سائیڈ کو کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption گرانٹ ایلیٹ اپنے پہلے اوور میں دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010 کے سیمی فائنل میں اگرچہ مائیکل کلارک نے ٹاس جیت کر آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ ہدف متعین کرنے کی بجائے ہدف کے تعاقب میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور پاکستان کی بیٹنگ دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ مائیکل کلارک کو اپنے اس فیصلے پہ پچھتانا پڑے گا مگر پھر ہم نے یہ دیکھا کہ شاہد آفریدی تب تک کی ٹی 20 کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹوٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور ایک ہی اوور میں دنیا کے بہترین بولر سعید اجمل کو مائیکل ہسی نے بدترین بولر بنا ڈالا۔

ٹی 20 میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے سامنے صرف ایک مبہم سا ہدف ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رنز کیے جائیں اور بولنگ سائیڈ کی صرف یہی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم رنز دیے جائیں۔ مگر کتنا ٹوٹل جیت کے لیے کافی ہو گا، یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔

اور پھر ٹی 20 کرکٹ نے جہاں بولروں کو بے شمار نقصانات پہنچائے ہیں، وہیں ایک فائدہ بھی دیا ہے۔ آج سے تین سال پہلے کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ سنیل نرائن کی بیٹنگ بھی ایک ہارا ہوا میچ جتوا سکتی ہے یا سہیل خان بھی اپنے بلے سے کسی قریب المرگ میچ میں جان ڈال سکتے ہیں یا پھر محمد عامر بھی نویں نمبر پہ آ کر 20ویں اوور کی پہلی گیند پہ چھکا مار کر میچ میں سنسنی پیدا کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption کراچی کنگز کے پانچ اوور میں چار کھلاڑی آؤٹ

اب یہ کیفیت ہے کہ میچ کی آخری تین گیندوں پہ تین چھکے چاہیے ہوں اور دسویں نمبر کا بیٹسمین کریز پہ کھڑا ہو تو بھی بیٹنگ سائیڈ کے جیتتنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ کارلوس بریتھ ویٹ بین سٹوکس کو مسلسل چار گیندوں پہ چار چھکے جڑ سکتا ہے؟

جوں جوں یہ پی ایس ایل اگلے مراحل کی جانب بڑھے گی، ٹاس کی اہمیت بڑھتی جائے گی اور یہ طے ہے کہ ٹاس جیتنے والا ہر کپتان دوسری ٹیم کو ہی بیٹنگ کی دعوت دے گا کیونکہ ٹی 20 میں بڑے سے بڑا ٹوٹل بھی جیت کا ضامن نہیں ہوتا۔

یاد رہے گذشتہ پی ایس ایل سیزن کی بہترین ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بھی فائنل میچ میں بڑے ٹوٹل کے دفاع میں ناکام رہی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں