نام بڑا اور درشن چھوٹے، مشہور کھلاڑی ابھی تک پی ایس ایل میں ناکام

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption کیون پیٹرسن تین میں سے دو میچوں میں پہلی بال پر آؤٹ ہوئے جبکہ ایک میچ میں صرف تین رنز بنا سکے۔

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی پانچوں فرنچائز ٹیموں میں متعدد بڑے ناموں والے کرکٹرز بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک یہ کرکٹرز نام بڑا درشن چھوٹے کے مصداق اپنی شہرت کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

ان کرکٹرز میں کرس گیل، کیون پیٹرسن، برینڈن میککلم اور کمار سنگاکارا قابل ذکر ہیں۔

کراچی کنگز کی پی ایس ایل میں مسلسل تیسری شکست

کانٹے کا مقابلہ لیکن فتح پشاور زلمی کی

گذشتہ سال وہ لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے کرس گیل اس بار پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کررہے ہیں۔

گذشتہ سال وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے تھے اور اس بار بھی وہ کراچی کنگز کے پہلے تین میچوں میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

پشاور زلمی کے خلاف وہ صرف دو رنز بناکر محمد حفیظ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف انہیں دس رنز پر تھسارا پریرا نے آؤٹ کیا اور پھر لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں پانچ رنز پر ان کی وکٹ ویسٹ انڈین سنیل نارائن نے حاصل کی۔

کیون پیٹرسن پچھلے سال سپر لیگ میں صرف ایک نصف سنچری بناسکے تھے اور اس بار بھی ان کا بلا بالکل خاموش ہے۔

لاہور قلندرکے خلاف وہ صرف تین رنز بناسکے۔ کراچی کنگز کے خلاف وہ پہلی بال پر بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئے اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف بھی وہ صفر کا دکھ لیے پویلین لوٹ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption کمار سنگاکارا اب تک صرف ایک نصف سنچری بنا سکیں ہیں جبکہ برینڈن میک کلم دو میچوں میں صفر کی ہزیمت اٹھا چکے ہیں

نیوزی لینڈ کے برینڈن میک کلم پہلی بار پاکستان سپر لیگ کھیل رہے ہیں اور انہیں لاہور قلندر نے کپتان مقرر کیا ہے لیکن جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور میک کلم بھی ابھی تک بجھے بجھے سے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکے خلاف انہوں نے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بیس رنز بنائے۔اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف وہ پچیس رنز بناکر آؤٹ ہوئے ۔

پشاور زلمی کے خلاف انہیں کھاتہ کھولنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور کراچی کنگز کے خلاف میچ میں بھی وہ بغیر رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔

سری لنکا کے کمار سنگاکارا کے لیے بھی یہ ٹورنامنٹ فی الحال اچھا ثابت نہیں ہوا ہے۔

پہلے دو میچوں میں پانچ اور پچیس رنز بنانے کے بعد وہ لاہور قلندر کے خلاف تیسرے میچ میں پینسٹھ رنز بنانے میں کامیاب ہوئے لیکن ان کی یہ اننگز ٹیم کو جیت سے ہمکنار نہ کرسکی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں