'میچ دیکھیں گے تو کمائیں گے کیسے'

فیس پینٹنگ
Image caption نبیل ایک چہرے پر پینٹ کرنے کے پانچ درہم لیتے ہیں

شارجہ کرکٹ گراؤنڈ کی بیرونی دیوار کے ساتھ پشت لگائے کھڑا ایک شخص ہر آنے جانے والے کو دیکھتا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آواز لگاتا 'فیس پینٹنگ، فیس پینٹنگ، صرف پانچ درہم میں۔'

یہ آواز لگانے کے بعد وہ پھر سے خاموش ہو جاتا اور اس شخص کے چہرے پر تھکاوٹ، اداسی، اور بے چینی جھلکنے لگتی۔

نہ جانے ایسی کون سی بات تھی جو اس شخص کو پریشان کیے ہوئی تھی اور وہ وہیں پر اشیا فروخت کرنے والے دیگر افراد کی طرح کرکٹ گراؤنڈ کے باہر اس چہل پہل سے لطف اندوز نہیں ہو رہا تھا۔

ان کا نام نبیل احمد ہے اور پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بورے والا سے تعلق رکھتے ہیں اور شارجہ میں ملازمت کرتے ہیں۔

نبیل احمد بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح دن میں اپنی ملازمت کرتے ہیں اور شام میں گراؤنڈ کے باہر کچھ نہ کچھ فروخت کرنے آجاتے ہیں۔

تاہم ان افراد میں سے کئی ایسے ہیں جو جلدی جلدی شرٹس، پرچم یا دیگر اشیا فروخت کر کے میچ دیکھنے گراؤنڈ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

لیکن نبیل ایسا نہیں کرتے کیونکہ ان کے بقول 'میچ دیکھیں گے تو کمائیں گے کیسے۔'

Image caption نبیل احمد بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح شام میں گراؤنڈ کے باہر کچھ نہ کچھ فروخت کرنے آجاتے ہیں

میچ دیکھنے کے لیے آئے ایک مداح کے چہرے پر پاکستانی پرچم پینٹ کرتے ہوئے نبیل نے کہا کہ'ساری رات ڈیوٹی کرتا ہوں، پھر دن میں کچھ وقت سو کر شام میں یہاں آجاتا ہوں۔'

'مجھے اور تو کچھ آتا نہیں اور پینٹ کرنا مجھے پسند بھی ہے اس لیے فیس پینٹنگ کرتا ہوں۔'

’شارجہ شارجہ ہے جی!‘

نبیل ایک چہرے پر پینٹ کرنے کے پانچ درہم لیتے ہیں اور وہ کبھی کبھی دبئی بھی جاتے ہیں جب بھی وہاں میچ ہوں۔

'یہاں میچ دیکھنے نہیں مزدوری کرنے آئے ہیں، میچ دیکھیں گے تو گھر کیا بھیجیں گے، متحدہ عرب امارات میں تو میچز ہوتے ہی رہتے ہیں، تو فری انٹری والا میچ دیکھ لیتے ہیں جب وقت ملے۔'

انتہائی مختصر سی گفتگو کرنے کے بعد نبیل برش اور پینٹ لیے گراؤنڈ کی دوسری جانب آواز لگاتے ہوئے چل دیے :'فیس پینٹنگ، فیس پینٹنگ۔'

اسی بارے میں