’پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہو گا‘

قذافی سٹیڈیم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائنل پانچ مارچ کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوگا

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل پانچ مارچ کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہی منعقد کروانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

شارجہ سے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سپر لیگ کی پانچوں فرنچائزز ٹیموں کے اجلاس میں کیا گیا جو پیر کو دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کی صدارت میں ہوا

ڈین جونز اور مکی آرتھر لاہور جانے کے لیے تیار

پی ایس ایل فائنل: کون لاہور آئے گا، فیصلہ 22 فروری کو

فوج پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں انعقاد میں مکمل تعاون کرے گی: جنرل باجوہ

پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے یہ اعلان کرچکا ہے کہ وہ ہر قیمت پر فائنل لاہور میں کرائے گا تاہم پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ خود کش دھماکوں کے بعد لاہور میں فائنل کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات ظاہر کیے جا رہے تھے۔

اس صورتحال میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی فائنل کے انعقاد میں فوج کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

پیر کو ہونے والے اجلاس میں تمام پانچوں فرنچائزز مالکان نے فائنل کے پاکستان میں انعقاد کی حمایت کی اور یہ کہا ہے کہ اس وقت قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں یہ فائنل لاہور میں ہی کرایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ خود کش دھماکوں کے بعد لاہور میں فائنل کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات ظاہر کیے جا رہے تھے

اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام فرنچائزز سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی کرکٹرز کو لاہور میں فائنل کھیلنے کے لیے قائل کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

دوسری جانب کرکٹرز کی ایسوسی ایشنز کی فیڈریشن فیکا نے ایک بار پھر لاہور میں فائنل کے انعقاد کو سکیورٹی کا خطرہ قرار دے دیا ہے۔

فیکا کے چیف ایگزیکٹیو ٹونی آئرش نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لاہور میں سکیورٹی کا خطرہ موجود ہے اور فیکا نے اس ضمن میں تمام کرکٹرز کو 'ہائی سکیورٹی رسک' سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ ان کرکٹرز پر منحصر ہے کہ وہ لاہور جانے کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

فیکا نے پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی کرکٹرز لاہور کا سفر اختیار کرنے سے گریز کریں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

اسی بارے میں