’سیاست پر نہیں آفریدی اور کوہلی پر اختلاف‘

’انڈیا اور پاکستان کے درمیان سے صرف سرحد کا لفظ نکال دیں پھر دیکھیں دونوں ممالک میں کوئی فرق نہیں دکھائی دے گا۔'

یہ کہنا ہے انڈین پنجاب کے علاقے ہوشیار پور سے تعلق رکھنے والے بلوندر سنگھ کا جو دبئی میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ بلوندر سنگھ ایک ہی کمرے میں چار پاکستانیوں اور دو دیگر انڈینز کے ہمراہ رہتے ہیں۔

'میچ دیکھیں گے تو کمائیں گے کیسے'

’شارجہ شارجہ ہے جی!‘

’20 درہم کماتے ہیں، شرٹیں کہاں سے خریدیں‘

’سب مسئلے سیاست دانوں کی وجہ سے ہیں، عام عوام تو دونوں جانب ایک جیسی ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بنا کسی مسئلے کے اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں۔ بلکہ جب بھی سرحد پر کشیدگی کی خبریں آتی ہیں تو ہم ایک دوسرے کو خوب تنگ کرتے ہیں اور ان خبروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔'

متحدہ عرب امارات میں ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو دوسرے ممالک سے یہاں ملازمت کی غرض سے آئے ہیں۔ ان میں سید حماد بھی شامل ہیں جو انڈین حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں اور دبئی نوکری کی تلاش میں آئے ہیں۔

سید حماد کا کہنا ہے کہ ’دونوں ممالک میں نوکریاں نہیں ہیں لیکن ٹینشن بہت ہے۔ ہر دوسرے دن دونوں جانب کا میڈیا کوئی نہ کوئی نئی خبر لے آتا ہے اور پھر ٹینشن شروع۔'

ان کا کہنا ہے ’بھائی ہمیں پتہ ہے کہ پاکستانی کیسے ہیں اور ہم کیسے ہیں اس لیے ہمارے ذہنوں پر سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔'

یہ سوچ صرف انڈینز ہی کی نہیں ہے بلکہ پاکستانی، بنگلہ دیشی، نیپالی اور سری لنکن بھی اپنے اپنے ممالک کے مسائل اور سیاست وغیرہ سے دور رہنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اختیار خان کہتے ہیں کہ پردیس میں نوکری کے لیے آئے ہیں نہ کہ سیاستدانوں کے جنگیں لڑنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’ہم انڈینز، بنگلہ دیشی اور پتہ نہیں کس کس ملک سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ملتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں پر کبھی نہیں سوچا کہ یہ ہمارے دشمن ملک سے ہیں۔ ایسی سوچیں صرف اپنے ملک میں رہ کر ہی آتی ہیں۔'

یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن انڈینز اور پاکستانیوں میں ایک واضح لکیر اس وقت کھچ جاتی ہے جب کرکٹ، شاہد آفریدی اور وراٹ کوہلی کی بات کی جائے۔ فوراً ریکارڈز، سنچریوں اور ورلڈ کپ میں پاکستان کے کبھی نہ جیتنے پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔

بلوندر سنگھ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاکستانی دوستوں کی طرح ان کو کرکٹ کا جنون تو نہیں لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ 'شاہد آفریدی بوم بوم ہے لیکن ویراٹ کوہلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ‘

لیکن ظاہر ہے پاکستان کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اختیار خان بلوندر سنگھ سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے ’آفریدی تو آفریدی ہے جب بوم بوم کھیلتے ہیں تو مزہ آتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ٹک ٹک کر کے کھیلو۔ کھیلنا ہے تو بوم بوم کی طرح کھیلو ورنہ نہیں۔'

اسی بارے میں