برف پر رگبی کھیلتی کشمیری لڑکیاں

Image caption صالحہ کو سماجی تنقید کا سامنا رہا، لیکن ان کے والدین، دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کا حوصلہ بڑھایا

صالحہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں خواتین کی رگبی ٹیم کی کپتان ہیں اور انڈیا کی کئی ریاستوں میں ہونے والے مقابلوں میں ان کی ٹیم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

صالحہ یوسف بہت بے تکلفی سے کہتی ہیں 'کشمیری لڑکیاں کسی کم نہیں۔'

'میں نےآٹھ سال پہلے اپنی کلاس چھوڑ دی اور سکول کے گراونڈ میں رگبی کی مشق میں لگ گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کلاس چھوڑنے سے جو شغل شروع ہوگا وہ کسی دن میرا جنون اور میرا کرئیر بنے گا۔'

صالحہ کو سماجی تنقید کا سامنا رہا، لیکن ان کے والدین، دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔

'لوگ تو باتیں کرتے ہیں، لیکن جو لوگ میری زندگی میں اہم ترین ہیں وہ سب میرے ساتھ تھے اور مجھے یقین تھا کہ میں صحیح ہوں۔'

Image caption چند سال پہلے کشمیر میں رگبی کا تصور ہی نہیں تھا لیکن اب یہاں کے مختلف میدانوں میں یہاں تک کہ سرما کے دوران برف سے ڈھکے خوبصورت سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی رگبی کے مقابلے ہوتے ہیں

چند سال پہلے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں رگبی کا تصور ہی نہیں تھا لیکن اب یہاں کے مختلف میدانوں میں یہاں تک کہ سرما کے دوران برف سے ڈھکے خوبصورت سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی رگبی کے مقابلے ہوتے ہیں۔

صالحہ کہتی ہیں کہ پہلے پہل انھیں اکیلے یا لڑکوں کے ساتھ مشق کرنا پڑتی تھی، کیونکہ لڑکیاں رگبی کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ لیکن اب لڑکیوں کی بڑی تعداد رگبی کھلتی ہے اور ٹیم بنانے کے لیے باقاعدہ سیلیکشن ٹرائل ہوتے ہیں۔

حکومت بھی نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے میں سرگرم ہے تاہم وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو علیحدگی پسند سوچ کے خلا ف جوابی بیانیہ کے طور پیش کرتی ہے۔

وزیر خزانہ حسیب درابو نے حالیہ دنوں ایسے ہی کھلاڑیوں پر مشتمل ایک کیلنڈر اجرا کرتے ہوئے کہا 'یہ سب نوجوان امید کے سفیر ہیں اور پتھراؤ یا علیحدگی پسند سوچ کے خلاف ایک کاؤنٹر نریٹیو ہیں۔'