ننکانہ صاحب کے بس ڈرائیور کا بیٹا کرکٹر کیسے بنا؟

محمد عرفان
Image caption محمد عرفان نے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رکھی تھی

پاکستان سپر لیگ میں نوجوان کرکٹرز اپنی عمدہ کارکردگی سے شائقین کو بے حد متاثر کررہے ہیں ان میں لاہور قلندر کے تیز رفتار بولر محمد عرفان جونیئر بھی شامل ہیں۔

محمد عرفان جونیئر کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے جہاں ان کے والد بس ڈرائیور ہیں۔

٭ پاکستان سپر لیگ 2 کی ٹیمیں بن گئیں

٭ نام بڑا اور درشن چھوٹے

محمد عرفان جونیئر کی پاکستان سپر لیگ تک پہنچنے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ وہ لاہور قلندر میں شامل ہونے سے قبل اگرچہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے تھے لیکن دنیا کے بڑے بیٹسمینوں کے سامنے کھیل کر اچھی کارکردگی دکھانے کی خواہش پاکستان سپرلیگ نے پوری کی ہے۔

محمد عرفان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں اپنی زندگی اور کریئر کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر حوصلہ مندی واضح طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔

'میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اتنا بڑا ایونٹ کھیلنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ ایک بڑی ٹیم کی نمائندگی کروں گا اور دنیا کے بڑے بڑے کرکٹرز کے خلاف بولنگ کروں گا۔ میں اگرچہ فرسٹ کلاس کرکٹ اور ڈومیسٹک ون ڈے کھیل چکا ہوں لیکن ٹی ٹوئنٹی کا آغاز پاکستان سپر لیگ سے کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں اس ایونٹ میں بہت کچھ سیکھ رہا ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE QALANDARS FACEBOOK
Image caption لاہور قلند ٹیم کا لوگو

محمد عرفان کے لیے ننکانہ صاحب سے آکر لاہور قلندر میں شامل ہونا جیسے خواب لگتا ہے۔

'لاہور قلندر کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں ایک لاکھ تیرہ ہزار لڑکے شریک تھے۔ مجھے اتنا یقین تھا کہ میں ان ٹرائلز میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ میں ٹرائلز میں منتخب ہوا ٹورنامنٹ کھیلا پھر آسٹریلیا گیا اور اب لاہور قلندر کی ٹیم کا حصہ ہوں۔'

محمد عرفان کے لیے کرکٹ شروع کرنا کبھی بھی آسان نہ تھا۔

'میں نے کرکٹ دیر سے شروع کی۔ دوستوں کو دیکھ کر شوق پیدا ہوا۔ میرے والد ڈرائیور ہیں۔ چونکہ فیملی مالی طور پر بہت مستحکم نہیں تھی لہذا گھر والوں نے کرکٹ کی مخالفت کی اور کہا کہ پڑھو یا پھر کوئی کام کرو۔ لیکن میں نے ٹھان رکھی تھی کہ کرکٹ کھیلنی ہے۔ راستے نکلتے رہے۔ میں شیخوپورہ گیا جہاں رانا نوید الحسن نے مجھے ڈومیسٹک کرکٹ کھلائی اور پھر عاقب جاوید نے حوصلہ دیا اور اتنی بڑی کرکٹ میں متعارف کرایا۔'

لاہور قلندر کے ڈائریکٹر کرکٹر عاقب جاوید کو محمد عرفان کی شکل میں اپنا ماضی یاد آجاتا ہے۔

Image caption عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ وہ بھی اسی طرح قطار میں کھڑے ہوکر ٹیم میں شامل ہوئے تھے

'وسیم راجہ نے لاہور میں ٹرائلز رکھے تھے اور میں بھی اسی طرح لمبی قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ اور پھر دو گیندوں نے میری زندگی ہی بدل دی تھی جب وسیم راجہ نے مجھ سے کہا تھا کہ تم میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ دراصل نوجوان میں ٹیلنٹ ضرور موجود ہوتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسے پہچانا جائے۔'

لاہور قلندر کے مالک فواد رانا اپنے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔

'پہلی پاکستان سپر لیگ میں پانچویں نمبر پر آنے کے بعد ہم نے پورے پنجاب کا رخ کیا اور ٹیلنٹ ہنٹ کرکے ایک لاکھ تیرہ ہزار لڑکوں میں سے 128 کو لاہور لاکر میچز کھلائے۔ ان میں سے 16 کو سڈنی بھیجا جن میں سے دو کے بجائے چار کو پاکستان سپر لیگ کا حصہ بنانا یہ ہماری جیت ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں