’لالہ سیلفی نہیں لینے دیں گے‘

شاہد آفریدی
Image caption مداح اپنے سٹارز کے ساتھ سیلفی لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے

مداحوں اور سٹارز کے درمیان ایک عجیب سا رشتہ ہوتا ہے، سٹار چاہے کوئی کرکٹر، فنکار، گلوکار یا پھر کوئی بھی ہو ان کے مداح ہر جگہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔

یہ مداح پہلے تو اپنی پسندیدہ شخصیات کو دیکھتے ہی صرف آٹو گراف کا مطالبہ کرتے تھے لیکن سمارٹ فونز کے آنے کے بعد اب ان کی فرمائشیں بھی بدل گئی ہیں۔

اب دوسرا لالہ نہیں آئے گا

اب کرکٹ صرف شائقین کے لیے، ٹیم میں واپسی کے لیے نہیں: آفریدی

اب تو چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے سٹارز کے ساتھ سیلفی لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

Image caption ان مداحوں کی کوشش تھی کہ ہر کھلاڑی کے ساتھ سیلفی بننی چاہیے

دبئی میں آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی کے باہر بھی کچھ ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملا جب پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں میں شامل کھلاڑی پریکٹس کرنے کے بعد ہوٹل واپس جانے کے لیے باہر آئے تو وہاں پہلے سے موجود مداح اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے گرد جمع ہوگئے۔

ان مداحوں کی کوشش تھی کہ ہر کھلاڑی کے ساتھ سیلفی بننی چاہیے اس لیے وہ جلدی جلدی سیلفی لیتے اور پھر باہر آنے والے دوسرے کھلاڑیوں کی جانب بھاگتے۔

وہاں موجود سکیورٹی گارڈ نے ان مداحوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو کھلاڑی اجازت دے گا انھیں صرف ان کے قریب ہی جانے دیا جائے گا۔

جیسے ہی شاہد آفریدی کرکٹ اکیڈمی سے باہر آئے تو جہاں سب نے اپنے اپنے موبائل کیمرے تیار کیے وہیں ایک مداح بولے 'لالا سیلفی نہیں لینے دیں گے' لیکن شاہد آفریدی نے اپنے کسی بھی مداح کو مایوس نہیں کیا اور خود قریب آ کر کہا کہ ان سب کو آنے دیا جائے۔

Image caption شاہد آفریدی کے علاوہ سرفراز احمد، حسن علی، محمد حفیظ، کرس جارڈن، ڈیرن سیمی، کامران اکمل اور کئی دیگر کھلاڑی بھی وہاں موجود تھے جن کے ساتھ مداحوں نے خوب سیلفیاں بنائیں

بس پھر کیا تھا مداحوں کی تو جیسے عید ہوگئی، ایک سیلفی ادھر سے تو ایک سیلفی ادھر سے۔

وہیں پر موجود ایک شخص جو سیلفی لینا بھی چاہتے تھے لیکن ہچکچا رہے تھے، انھیں شاہد آفریدی نے خود ہاتھ پکڑ کر پشتو میں کہا 'یہاں قریب ہو جاؤ۔'

شاہد آفریدی کے علاوہ سرفراز احمد، حسن علی، محمد حفیظ، کرس جارڈن، ڈیرن سیمی، کامران اکمل اور کئی دیگر کھلاڑی بھی وہاں موجود تھے جن کے ساتھ مداحوں نے خوب سیلفیاں بنائیں۔

سرفراز احمد کے قریب جانے سے روکنے پر جب مداحوں کو مایوسی ہوئی تو انھوں نے آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے بس کے قریب آنے کو کہا اور باری باری سب کو سیلفی بنانے کا موقع دیا۔

کرکٹ اکیڈمی کے باہر موجود ان مداحوں میں سے تو بہت سے ایسے تھے جنھیں یہ تک معلوم تھا کہ یہ سب کھلاڑی کب کب آتے ہیں؟ اور کتنا وقت پریکٹس کرنے کے بعد باہر آتے ہیں۔

کئی مداح تو ایسے ہیں جو روز آتے ہیں اور روز انھیں کھلاڑیوں کے ساتھ سیلفی بنواتے ہیں، وہ کہتے ہیں'سیلفی لے کر خوشی ہوتی ہے ہمیں، یہ ہمارے سٹارز ہیں۔'

سیلفی لینے کے بعد اسی وقت وہ اپنے اپنے موبائل میں اس تصویر کو دیکھتے اور اگر تصویر ٹھیک نہ ہوتی تو مایوسی سے کہتے 'ارے یار صحیح نہیں آئی، چلو کل پھر سہی۔'

اسی بارے میں