'اب تو فائنل لاہور ہی میں ہو گا'

جمعرات کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کے لیے دبئی سٹیڈیم پہنچا تو جہاں لوگوں میں جوش و خروش تھا وہیں لوگ پریشان بھی تھے اور ٹولیوں میں کھڑے گرما گرم بحث کر رہے تھے۔

گذشتہ 15 میچوں میں لوگوں کو ہر پریشانی سے دور میچ دیکھنے کی خوشی اور جذبے ہی میں دیکھا ہے۔

لیکن جمعرات کے میچ میں زیادہ تر شائقین کی زبان پر ایک ہی سوال تھا: کیا پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہو سکے گا؟

’سکیورٹی کی فکر تو ہے لیکن سب ٹھیک ہے‘

’سیاست پر نہیں آفریدی اور کوہلی پر اختلاف‘

'میچ دیکھیں گے تو کمائیں گے کیسے'

’لالہ سیلفی نہیں لینے دیں گے‘

اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی انتظامیہ یہ کہہ چکی ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا چاہے غیر ملکی کھلاڑی جائیں یا نہ جائیں۔

لیکن جب یہ اعلان کیا گیا تو لاہور میں ایک ہی دھماکہ ہوا تھا لیکن دس روز کے اندر دوسرے دھماکے نے شائقین نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکیوں کے ذہنوں میں بھی یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا لاہور میں فائنل کرانا اچھا فیصلہ ہوگا؟

دبئی سٹیڈیم کے باہر میچ دیکھنے آئے ہوئے پاکستانی پرچم میں ملبوس مسعود عرف پاکستانی نے کچھ دیر سوچا پھر میری طرف دیکھا اور اس وقت ان کے چہرے پر کرختگی تھی اور انھوں نے سخت لہجے میں کہا 'اب تو فائنل لاہور ہی میں ہو گا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'اب یہ فائنل لاہور میں نہ ہوا تو پھر نہیں ہو پائے گا اور نہ ہی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہو گی۔'

کچھ دور ہی چند لوگ ٹولی کی صورت میں کھڑے تھے۔ ان سے جب پاکستان میں فائنل کے بارے میں پوچھا تو اس سے پہلے ان کے پاکستانی ساتھی جواب دیتے جسپریت سنگھ نے کہا: 'ویکھو جی پاکستان وچ جو وی ہو ریا اے ہو ریا اے، لیکن ایس بار میچ نہ ہویا تے فیر فارگیٹ اٹ بھول جاؤ۔'

لیکن ان کے ساتھ آئے ہوئے محمد لطیف نے میری طرف دیکھ کر مایوسی سے کہا: 'دیکھیں اگر فائنل لاہور میں ہو بھی جاتا ہے اور کوئی غیر ملکی کھلاڑی نہیں آتا تو کیا یہ پی ایس ایل کا فائنل ہوگا یا پھر لوکل ٹی ٹوئنٹی کپ کا۔'

'لاہور میں فائنل کرانا ہی صرف ضروری نہیں بلکہ غیر ملکیوں کو بھی لانا لازم ہے کیونکہ یہی موقع ہے کرکٹ کو واپس اپنے ملک لانے کا اور اس کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کا لاہور فائنل میں حصہ لینا اہم ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔'

پنجاب کے شہر شیخوپورا سے آئے ہوئے ارشد نے کہا کہ 'پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل ہونا پاکستان کی عزت کا سوال ہے اس لیے اب تو فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔'

سٹیڈیم کے باہر بنگلہ دیش سے آئے ہوئے عبداللہ نے مسکرا کر کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فائنل لاہور میں نہیں بلکہ دبئی ہی میں ہو۔ 'اس میں میری خود غرضی ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں میچ سٹیڈیم میں لائیو دیکھوں۔'

تاہم پھر انھوں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا 'اصل بات یہ ہے کہ اگر حالات کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑی پاکستان نہیں جاتے تو پھر اس لیگ میں کیا رہ جائے گا۔'

جہاں زیادہ تر شائقین پاکستان ہی میں فائنل کے حامی تھے تو وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ چاہتے تو وہ بھی ہیں کہ پاکستان میں فائنل ہو لیکن حالات دیکھتے ہوئے مشکل ہی لگ رہا ہے۔

محمد لطیف کہتے ہیں 'چاہیے تو یہ تھا کہ اگر پاکستان میں غیر ملکی کھیلنے کے لیے تیار ہوتے تو پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ ہی پاکستان میں کرائے جاتے۔ جب دیگر میچ نہیں ہو سکتے تو فائنل کیسے ہو سکتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب دو دھماکے ہو چکے ہیں؟'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں