’آپ خوش ہوتے ہیں تو ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے‘

Image caption لاہور قلندر کے سربراہ فواد رانا میدان میں اپنی قلندرانہ طبعیت کے سبب سب سے منفرد نظر آتے ہیں

پاکستان سپر لیگ کا جوش وخروش جتنا میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان ہے اس سے کہیں زیادہ میدان سے باہر ان ٹیموں کے شائقین میں بھی دکھائی دیتا ہے اور اس جوش وخروش میں پانچوں ٹیموں کے مالکان کے جیت ہار پر دکھائی دینے والے جذبات نے اور بھی اضافہ کر رکھا ہے۔

لاہور قلندر کے سربراہ فواد رانا میدان میں اپنی قلندرانہ طبعیت کے سبب سب سے منفرد نظر آتے ہیں۔ ان کی ٹیم جیتے، چوکا، چھکا، لگائے یا وکٹ حاصل کرے تو وہ میدان میں بھنگڑا اور کبھی کبھی گینگ نم سٹائل انداز میں رقص کرنا شروع کردیتے ہیں۔

محمد سمیع کی آخری اوور میں شاندار بولنگ، اسلام آباد یونائیٹڈ کی ایک رن سے فتح

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے لاہور قلندرز کو 17 رنز سے ہرا دیا

شائقین کے ساتھ خوشی خوشی سلیفیاں بناتے ہیں اور جب ٹیم ہار جائے تو مایوسی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

میں نے فواد رانا سے پوچھا کہ اس غیرمعمولی جذبادیت کی وجہ؟۔

'میں کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرتا ہوں اور جب میچ ہوتے ہیں تو ان میں محو ہوجاتا ہوں۔ مجھے کسی نے بتایا کہ آپ کے بارے میں کمنٹیٹرز یہ کہتے ہیں کہ فواد رانا کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ مالک کی حیثیت سے کس طرح کا انداز اختیار کیا جانا چاہیے۔ تو یہ بات درست ہے کہ میں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ میں کسی ٹیم کا مالک ہوں۔ میری ٹیم مجھ سے کہتی ہے کہ جب آپ خوشی سے ناچتے گاتے ہیں تو ہمیں بھی خوشی ہوتی ہے اور حوصلہ بڑھتا ہے۔'

میں نے فواد رانا سے پوچھا کہ اپنی ٹیم کو لاہور قلندر نام دینے کی کوئی خاص وجہ ؟۔

'جب میرے بھائی نے ٹیم کا نام قلندر تجویز کیا تو مجھے اس میں اپنی والدہ کی یاد محسوس ہوئی۔ پھر میں نے اقبال کی شاعری کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے قلندر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ برصغیر میں لاہور اور دہلی دو ایسے شہر ہیں جہاں بادشاہوں صوفیاؤں اور اولیائے کرام کا گزر ہوا ہے۔اس میں کنیزوں کا بھی ذکر ہے اور غلاموں کا بھی۔ یہ سب کچھ میں لکھتا رہا اور گنگناتا رہا اسی کوشش میں لاہور قلندر کا گانا لکھ دیا۔'

فواد رانا پیٹرولیم انجنیئر ہیں لیکن تھیٹر اور ٹی وی سے ان کا پرانا تعلق رہا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروڈیوسر یاور حیات کے ہونہار شاگرد کے طور پر مشہور ہیں۔ اجوکا تھیٹر سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو اندازہ تھا کہ یہ گانا اتنا مقبول ہوگا؟۔

'میں نے اس گانے کے لیے گلوکار اسرار احمد کا انتخاب اس لیے کیا کہ وہ ایک منفرد انداز کے گلو کار ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ مجھے اس گانے میں لاہور کا روایتی رنگ چاہیے جو انھوں نے دیا۔جے علی کی موسیقی نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔'

فواد رانا لاہور قلندر کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتےہیں۔

'گزذشتہ سال لاہور قلندر آخری نمبر پر آئی تو ہم نے پورے پنجاب میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جس میں ایک لاکھ تیرہ ہزار نوجوان کرکٹرز آئے ان میں سے 128 کرکٹرز کا انتخاب کیا گیا جن کے قذافی سٹیڈیم لاہور میں میچ کرائے گئے اور ان میں سے 16 کرکٹرز کو منتخب کرکے آسٹریلیا بھیجا گیا اور اب چار کرکٹرز لاہور قلندر کا حصہ ہیں ۔یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔'

اسی بارے میں