سکول کوچ کی بات پر عمل کرنے والے پولارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption لاہور قلندر کے خلاف میچ میں کراچی کنگز کو عامر یامین کے آخری اوور میں جیتنے کے لیے 14 رنز درکا تھے

ویسٹ انڈین کرکٹر کائرون پولارڈ نے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندر کے خلاف آخری دو گیندوں پر دو چھکے لگا کر کراچی کنگز کو فتح دلاتے وقت اپنے اسکول کوچ کی وہ بات یاد رکھی تھی کہ دو گیندوں پر دس رنز بھی بن سکتے ہیں اور بارہ بھی۔

٭کئیرون پولارڈ کراچی کنگز کے ہیرو، پانچ وکٹ سے جیت

’اسکول کے زمانے میں میرے کوچ کہا کرتے تھے کہ کھیل صرف اسی صورت میں ختم ہوتا ہے جب وہ مکمل ہوجائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ دو گیندوں پر دو چھکوں کا مطلب ہے بارہ رنز اور ایک چوکے اور ایک چھکے کا مطلب ہے دس رنز۔ لاہور قلندر کے خلاف میچ میں ہمیں خود پر بھروسہ تھا کہ ہم یہ کرسکتے ہیں اور خوش قسمتی سے یہ کردکھایا۔‘

لاہور قلندر کے خلاف میچ میں کراچی کنگز کو عامر یامین کے آخری اوور میں جیتنے کے لیے 14 رنز درکا تھے۔

پہلی گیند پر پولارڈ نے دو رنز لیے اور دوسری گیند پر ایک رن لیا۔ تیسری گیند پر عماد وسیم نے ایک رن لے کر سٹرائیک دوبارہ پولارڈ کو دے دی جو چوتھی گیند پر کوئی رن نہ بناسکے لیکن پانچویں گیند پر انہوں نے لانگ آف پر چھکا لگادیا۔ آخری گیند پر کراچی کنگز کو جیت کے لیے چار رنز درکار تھے لیکن پولارڈ نے ڈیپ اسکوائر لیگ پر چھکے سے کراچی کنگز کو کامیابی دلا دی۔

جیت پر پولارڈ کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی خاص کر جب انھوں نے مصباح الحق کی طرح پش اپس لگانے شروع کردیے۔

کائرون پولارڈ پش اپس کو جیت کا جشن منانے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔

’جب آپ پرجوش ہوتے ہیں تو پھر اس طرح کی چیزیں ہوجاتی ہیں۔ یہ کچھ دیر کے لیے تھا جس کے بعد میں نارمل ہوگیا تھا۔‘

پولارڈ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس میچ وننگ اننگز کے دوران خود کو بہت پرسکون رکھا تھا۔

’خود کو پرسکون رکھتے ہوئے میں نے یہی کوشش کی تھی کہ گیند بلے پر آتی رہے جو اس کھیل میں بہت ضروری ہے کیونکہ اسی طرح آپ کو رنز ملتے ہیں۔ مجھے اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ یہ میچ ہمارے لیے کتنا اہم ہے کہ اگر ہم ہارگئے تو مقابلے سے باہر ہوجائیں گے لیکن یہ زندگی اور موت کا معاملہ بھی نہیں تھا کہ میں خود پر غیرمعمولی دباؤ لیتا۔ کرکٹ میچ کے دباؤ سے کہیں زیادہ آپ کی عام زندگی میں کئی چیزیں ہوتی ہیں جو آپ پر زبردست دباؤ ڈالتی ہیں۔‘

پولارڈ کے خیال میں جب آپ بیٹنگ کررہے ہوتے ہیں تو دباؤ موجود ہوتا ہے۔

’دباؤ ہر وقت رہتا ہے لیکن میں خود پر اس طرح کا دباؤ طاری نہیں کرتا۔ ہم خوب پریکٹس کرتے ہیں اور اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے آج ہمارا دن تھا۔‘

کراچی کنگز کو پلے آف تک رسائی کے لیے اتوار کے روز اسلام آباد یونائٹڈ کو شکست دینی ہوگی اور اگر وہ ہارتی بھی ہے تو یہ شکست بڑے مارجن سے نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو لاہور قلندر کی ٹیم پلے آف میں جگہ بنالے گی۔

اس وقت تین ٹیمیں پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ پلے آف میں پہنچ چکی ہیں۔

اسی بارے میں