’بیوی نے کہا آج بڑی سکرین پر ضرور آنا‘

کسی بھی کرکٹ میچ میں ایک گیند ہزاروں تماشائیوں کو کیسے ساتھ جوڑے رکھتی ہے، یہ ایک انتہائی خوبصورت نظارہ ہوتا ہے۔

بولر کے بھاگنے سے لے کر گیند پھینکنے، وکٹ گرنے یا چوکا، چھکا لگنے تک ہر ایک موقع سے وہاں موجود تماشائی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سب کا ایک ساتھ مل کر گانا، کھلاڑیوں کو آوازیں دینا اور جواب میں کھلاڑیوں کی جانب سے صرف ہاتھ ہلا دینے پر خوشی سے جھوم جانا یہ سب کچھ آپ صرف سٹیڈیم میں بیٹھ کر ہی دیکھ سکتے ہیں، گھر پر ٹی وی کے سامنے نہیں۔

فرید بھی ایک ایسے ہی کرکٹ فین ہیں جو ہر گیند پر نتیجہ چاہے جو بھی ہو، اٹھ جاتے اور ناچتے ہوئے اپنے ساتھ اوروں کو بھی کھینچ لیتے ہیں۔ اور یوں پورے کا پورا سٹینڈ ان کے ساتھ ناچنے گانے لگتا ہے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے فرید دبئی میں ایک کنسٹرکشن کمپنی میں ملازم ہیں اور ان کے مطابق وہ پاکستان سپر لیگ کے میچوں سے بھر پور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ہر گیند پر کیوں اٹھ جاتے ہیں؟

پہلے تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا اور باؤنڈری لائن پر کھڑے فیلڈر کا نام پکارنے لگے، لیکن پھر میری ساتھ والی نشست پر بیٹھ کر انھوں نے مجھے کہا ’بھائی بات ایسی ہے کہ میری بیوی کا میسج آیا ہے کہ آج آپ بڑی سکرین پر ضرور آنا۔‘

’بس اسی کی کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ کسی طرح کیمرہ مین مجھ پر مہربان ہو جائے اور میں بڑی سکرین پر آجاؤں۔‘

ہر کوئی بس یہ چاہتا ہے کہ کیمرہ صرف ان پر آ کر رکے، باقی کوئی دکھائی دیتا ہے یا نہیں انھیں اس سے مطلب نہیں۔

بعض تو خاص طور پر پوسٹرز پر لکھ کر لاتے ہیں ’براہ مہربانی ہمیں سکرین پر دکھایا جائے۔‘

سٹیڈیم میں رنگ برنگے کپڑے پہن کر، مختلف قسم کے پوسٹر ہاتھوں میں تھامے، چند دیگر تماشائیوں سے بھی میں نے پوچھا کہ جب ان پر کیمرہ آتا ہے تو وہ اپنی نشستوں سے اچانک اٹھ کیوں جاتے ہیں؟

تو اس پر کسی نے کہا کہ انھیں سٹیڈیم میں لگی بڑی سکرین پر خود کو دیکھ کر اچھا لگتا ہے تو کسی نے کہا کہ اتنے سارے لوگ آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں خود پر قابو نہیں رہتا، اس لیے ہم بے ساختہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

بعض تو اس لیے ایسا کرتے ہیں تاکہ پاکستان میں ان کے رشتہ دار انھیں دیکھ سکیں۔

زمرد خان جو گذشتہ پانچ سالوں سے دبئی میں ملازمت کر رہے ہیں اور تقریباً ہر میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم آتے ہیں، ان کے مطابق اب تو لوگ انھیں ٹکٹ بھی مفت میں دے دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے سوچ کر آتے ہیں کہ ایسا کیا کریں گے کہ کیمرہ ان پر ضرور آئے اور وہ خود کو سکرین پر دیکھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی تو بڑے بڑے پوسٹر بنا کر ساتھ لاتے ہیں تو کبھی ایسے کپڑے پہن کر آتے ہیں جو سب سے الگ دکھائی دیتے ہوں تاکہ کیمرہ مین کی نظر ان پر ضرور پڑے۔

کئی طرح کی چیزیں پہنے ہوئے ایک اور مداح کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’جب آرام سے بیٹھ کر میچ ہی دیکھنا ہے تو گھر پر دیکھیں، ہم تو یہاں انجوائے کرنے آتے ہیں۔‘ یہ کہہ کر انھوں نے پھر سے زور زور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے ناچنا شروع کر دیا۔

یہی نہیں ان میں سے اکثر تو باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کرنے کے لیے آنے والے ہر فیلڈرز کو بھی خوب تنگ کرتے ہیں، کبھی بار بار ان کے نام پکار کر اور کبھی ان کی جانب آتی ہوئی گیند پر ’چھوڑ دو چھوڑ دو‘ کی آوازیں لگا کر۔

پورے کا پورا سٹیڈیم ایسے ہی لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے، جو خود تو انجوائے کرتے ہی ہیں لیکن دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

اسی بارے میں