اچھے سپنر نظر آئے ہیں مگر میچ ونر بلے باز نہیں ملے: انضمام الحق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان سپر لیگ میں چند اچھے نوجوان سپنرز نظر آئے ہیں لیکن باصلاحیت نوجوان بیٹسمینوں کا فقدان ہے۔

انضمام الحق نے شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں بی بی سی اردو کو دیے انٹرویو میں کہا کہ انھیں زبردست ٹمپرامنٹ کے چند اچھے سپنرز دیکھ کر خوشی ہوئی ہے لیکن وہ نوجوان بیٹسمینوں کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انھیں ایسے بیٹسمین نظر نہیں آئے جو میچ ونرز ہوں۔

انضمام الحق نے کہا کہ اچھی اننگز کھیلنے اور میچ جتوانے میں فرق ہے۔ ’ہمارے بیٹسمین اچھا سکور تو کر لیتے ہیں لیکن میچ کو جیت پر ختم نہیں کرتے، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ قومی ٹیم کو اس وقت میچ ونرز چاہئیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا انتخاب کرتے وقت ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا کیونکہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ایونٹ ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے کہا کہ ’سب کو یاد ہے کہ گذشتہ سال اسی سپر لیگ سے ہمیں حسن علی کی صورت میں ایک باصلاحیت کرکٹر ملا تھا۔‘

چیف سلیکٹر نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے میں کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، کیونکہ یہ سیریز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے سلسلے میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ان کے مطابق: ’پاکستانی ٹیم یہ سیریز جیت سکتی ہے لیکن اسے اپنی فیلڈنگ کا معیار بہتر کرنا ہوگا۔‘

انضمام الحق نے کپتان مصباح الحق کے مستقبل کے بارے میں سوال پر کہا کہ اس کا فیصلہ خود مصباح کو کرنا ہے۔

بورڈ نے بھی مصباح کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے رکھا ہے ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ دیکھیں گے لیکن ذاتی طور پر انضمام یہ سمجھتے ہیں کہ ’ہمیں اب آگے کی طرف دیکھنا چاہیے کیونکہ ہمیں اب وہ کرکٹ کھیلنی ہے جو اس وقت دنیا کھیل رہی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں