پی ایس ایل کا فائنل، شائقین کا جوش و خروش عروج پر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سٹیڈیم میں شائقین کی آمد

لاہور کے قدافی سٹیڈیم میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مابین پی ایس ایل کا فائنل میچ دیکھنے کے لیے ہزاروں شائقین میدان میں موجود ہیں۔

فائنل میچ کا مقررہ وقت رات آٹھ بجے ہے لیکن بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس کے آغاز سے کئی گھنٹے قبل ہی شائقین کی بہت بڑی تعداد سٹیڈیم میں پہنچ گئی۔

قذافی سٹیڈیم کے باہر موجود شائقین کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو دیکھیے

پاکستان سپر لیگ کی اختتامی تقریب

پاکستان سپر لیگ فائنل، شائقین کرکٹ کا جوش و خروش

شاہد آفریدی زخمی، فائنل نہیں کھیلیں گے

فائنل سے قبل ایک رنگارنگ تقریب کا بھی اہتمام بھی کیا گیا ہے جس کا آغاز پاکستانی فوج کے پیراٹروپرز کی میدان میں لینڈنگ سے ہوا جس کے بعد علی ظفر، علی عظمت، فرہاد ہمایوں اور فاخر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق فائنل کے لیے سٹیڈیم کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں اور اس کے اردگرد سکیورٹی اہلکاروں نے حصار بنایا ہوا ہے۔

سٹیڈیم کی مرکزی عمارت اور مختلف سٹینڈز میں فوجی جوان بھی تعینات ہیں جبکہ ہیلی کاپٹروں سے سارے علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

قذافی سٹیڈیم سے متصل ہاکی سٹیڈیم میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 25 بستروں کا ہسپتال بھی بنایا گیا ہے۔

Image caption سٹیڈیم میں داخلے سے پہلے شائقین کی چیکنگ کی جا رہی ہے

گاڑیوں کی پارکنگ کے مقام سے شائقین کو سٹیڈیم تک لانے کے لیے تین مختلف مقامات خصوصی شٹل سروس چلائی گئی اور انھیں چیک پوسٹس پر جامہ تلاشی دینے کے بعد ہی سٹیڈیم کی حدود میں داخل ہونے دیا گیا ہے۔

قذافی سٹیڈیم کے باہر موجود نامہ نگار عمردراز ننگیانہ کے مطابق سخت چیکنگ اور رکاوٹوں کے باوجود عوام کا جوش و خروش بڑھتا رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاوہ کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ فائنل دیکھنے کے لیے پہنچے ہیں اور دن بارہ بجے سے ہی بڑی تعداد میں شائقین سٹیڈیم کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

فیروز پور روڈ کی جانب کھلنے والا دروازہ دوپہر دو بجے جبکہ لبرٹی چوک کی جانب کھلنے والا دروازہ دوپہر ڈھائی بجے کھل گیا جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی چیکنگ کے بعد شائقین کو میدان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

شائقین میں نوجوانوں کے علاوہ بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو اپنی پسندیدہ ٹیم کی شرٹس پہنے نظر آرہے ہیں۔ان میں سے کچھ نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پاکستانی پرچم بھی اٹھا رکھے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لاہور میں زلمی اور گلیڈی ایٹر کے حامی

سکیورٹی کی وجہ سے سٹیڈیم کے دروازے شام پونے چھ بجے بند کر دیے گئے جس کے بعد شائقین کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

خیال رہے کہ لاہور دو سال کے وقفے کے بعد کسی ایسے میچ کی میزبانی کر رہا ہے جس میں غیرملکی کھلاڑی شریک ہیں۔

2009 میں لاہور میں ہی سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں چھ برس تک انٹرنیشنل کرکٹ میچ منعقد نہیں ہوئے تھے اور اس تعطل کا خاتمہ سنہ 2015 میں زمبابوے کی ٹیم کے دورۂ پاکستان سے ہوا تھا جس کے تمام میچ لاہور میں کھیلے گئے تھے۔

لاہور میں گذشتہ ماہ ہونے والے خودکش حملے کے بعد شہر میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے انعقاد کے بارے میں غیر یقینی پائی جا رہی تھی لیکن فوج کی جانب سے ہر ممکن سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد پنجاب حکومت نے یہ میچ منعقد کرنے کی اجازت دی ہے۔

Image caption قذافی سٹیڈیم کے باہر شائقین میدان کے دروازے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں

اسی بارے میں