لاہور: کوئٹہ کو شکست، پشاور زلمی پاکستان سپر لیگ کی فاتح

پی یس ایل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پشاور زلمی کی ٹیم نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 58 رنز سے شکست دے کر پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن جیت لیا ہے۔

یہ لگاتار دوسرا سیزن ہے کہ کوئٹہ کی ٹیم کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گذشتہ برس انھیں اسلام آباد کی ٹیم نے شکست دی تھی۔

’آپ سب کو عیدِ پی ایس ایل فائنل مبارک'

’آج جیت پاکستان کرکٹ کی ہوئی ہے‘

پی ایس ایل کا فائنل، شائقین کا جوش و خروش عروج پر

اتوار کی شب لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں پشاور نے کوئٹہ کو 149 رنز کا ہدف دیا تاہم کوئٹہ کی پوری ٹیم 17ویں اوورز میں 90 رنز ہی بنا سکی۔

اس ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم آغاز سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور اس کی آدھی ٹیم آٹھویں اوور میں ہی پویلین لوٹ چکی تھی۔

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں کوئٹہ کی جانب سے احمد شہزاد اور مورنی وین وک نے اننگز شروع کی تو وین وک دوسرے ہی اوور میں رن آؤٹ ہو گئے۔

تیسرے اوور میں پشاور کے کپتان ڈیرن سیمی نے حسن علی کی گیند پر انعام الحق کا ایک آسان کیچ چھوڑ کر دوسری وکٹ حاصل کرنے کا موقع گنوا دیا۔ تاہم اگلے ہی اوور میں اصغر نے انعام کو مڈ آف باؤنڈری پر کیچ کروا کے اس غلطی کا ازالہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد ایک بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے

حسن علی کو پہلی وکٹ احمد شہزاد کی ملی جنھیں خوشدل شاہ نے کیچ کیا، وہ صرف ایک رن ہی بنا سکے۔ کپتان سرفراز احمد چند اچھی شاٹس کھیلنے کے بعد محمد حفیظ کی گیند پر سٹمپ ہو گئے۔ انھوں نے دس گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 22 رنز بنائے۔

وہاب ریاض نے اپنی پہلی ہی گیند پر سعد نسیم کو کیچ آؤٹ کروایا تو یہ کوئٹہ کی پانچویں اور پاکستان سپر لیگ میں مجموعی طور پر وہاب ریاض کی 29ویں وکٹ تھی۔ وہ اس لیگ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔

محمد اصغر نے شان اروائن کو 13ویں اوور میں بولڈ کیا تو یہ ان کی اس میچ میں دوسری وکٹ تھی اور اگلی ہی گیند پر انھوں نے نواز کو سٹمپ کروا کر وکٹوں کی تعداد تین کر لی۔

انور علی کو کرس جورڈن نے آؤٹ کیا جبکہ آخری وکٹ حسن علی نے حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption حسان خان نے فائنل میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

سیمی کے چھکے، چوکے

اس سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے چھ وکٹوں کے نقصان پر 148 رنز بنائے۔

پشاور کی ٹیم کو اس سکور تک پہنچانے میں کپتان ڈیرن سیمی کی آخری اوورز میں جارحانہ اننگز نے اہم کردار ادا کیا جنھوں نے 11 گیندوں میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 28 رنز بنائے۔

ان کے علاوہ پی ایس ایل کے اس سیزن کی واحد سنچری بنانے والے کامران اکمل نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز کی اننگز کھیلی۔

کوئٹہ کی جانب سے فائنل کے لیے ٹیم میں شامل کیے جانے والے ویسٹ انڈین بولر ریاض امرت نے تین اور نوجوان سپنر حسان خان نے دو وکٹیں لیں جبکہ محمد نواز نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قذافی سٹیڈیم میں فائنل دیکھنے کے لیے 25 ہزار شائقین موجود ہیں

اس میچ کے لیے آخری پلے آف مقابلے میں فتح پانے والی پشاور کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور اُس میچ میں زخمی ہونے والے شاہد آفریدی کی جگہ افتخار احمد نے فائنل کھیلا۔

ادھر کوئٹہ کی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئیں اور ٹیم کے ریگولر غیر ملکی کھلاڑیوں کے لاہور آنے سے انکار کے بعد ٹیم انتظامیہ نے شان ارون، ریاض امرت، مورنی وین وک اور انعام الحق کو اس میچ کے لیے منتخب کیا۔

یہ دونوں ٹیمیں اس سیزن میں ابتدائی دو پوزیشنز پر رہنے کے بعد پہلے پلے آف میچ میں بھی آمنے سامنے آئی تھیں اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے یہ میچ سنسی خیز مقابلے کے بعد ایک رن سے جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

پشاور کی ٹیم نے اس میچ میں شکست کے بعد تیسرے پلے آف میں کراچی کنگز کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں