عمران خان کے ’پھٹیچر‘ کھلاڑی کون؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور زلمی کے کپتان اپنی ٹیم کے ہمراہ پی ایس ایل کے فائنل میں جیت کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں سابق کرکٹر نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حال ہی میں لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں شرکت کرنے والے غیر ملکی کھلاڑی ’پھٹیچر‘ تھے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے پاکستان میں فروری میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے پی ایس ایل کے فائنل کا لاہور شہر میں انعقاد کرانے کے اعلان پر شدید تنقید کی تھی۔

* ’پی ایس ایل فائنل لاہور میں کرانا پاگل پن ہے‘

* ’آپ سب کو عیدِ پی ایس ایل فائنل مبارک'

* ’پہلے طالبان اور اب پی ایس ایل‘

ایک پریس کانفرنس سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہا: ’سارے پھٹیچر کھلاڑیوں کو تو ویسے ہی آجانا تھا۔ میں تو ان غیر ملکی پلیئرز میں سے کسی کو نہیں جانتا۔ مجھے لگتا ہے کہ بس ایسے ہی کسی کو افریقہ سے پکڑ کر لے آئے ہیں کہ دیکھیں جی غیر ملکی کھلاڑی آگئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے غیر معروف، غیر ملکی کھلاڑیوں کو جہاں پیسے ملیں گے وہ کھیلنے چلے جائیں گے۔

آئیے دیکھیں کہ عمران خان کے بیان کا محوربننے والے یہ کھلاڑی کون ہیں اور ان کے ریکارڈز کیا ہیں۔

پشاور زلمی:

ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے فائنل میچ میں پہنچنے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ ان کی ٹیم کے تمام غیر ملکی کھلاڑی فائنل میں پہچنے کی صورت میں پاکستان جائیں گے۔ ان کھلاڑیوں میں کپتان ڈیرن سیمی، مارلن سیموئلز، کرس جارڈن اور ڈیوڈ ملن شامل تھے۔

ڈیرن سیمی:

33 سالہ ڈیرن سیمی کو بلا جھجک کرکٹ کے سب سے مشہور فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی کا بہترین کپتان سمجھا جا سکتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے 66 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کھیلنے والے ڈیرن سیمی کی کپتانی میں ان کی ٹیم دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فتح حاصل کر چکی ہے۔ انھوں نے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ اپریل 2016 میں کولکتہ کے تاریخی میدان میں کھیلا جب ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں شکست دی۔ 242 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ڈرین سیمی نے تقریباً 3000 رنز بنائے ہیں جبکہ 154 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ماضی میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ میچوں میں بھی قیادت کی ہے۔ اس سال کے پی ایس ایل فائنل میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ڈیرن سیمی کو ہی ملا۔

مارلن سیموئلز:

ویسٹ انڈیز کے ہی مارلن سیموئلزنے دو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں شرکت کی ہے اور دونوں میں ہی ان کو مین آف دی میچ کا اعزاز ملا ہے ۔ 36 سالہ مارلن سمئیولز ویسٹ انڈیز کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتے ہیں اور اب تک 145 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں انھوں نے 3666 رنز بنائے ہیں۔ لیکن ان کی مشہور ترین اننگز 2012 اور 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے فائنلز کی شمار کی جائی گے جہاں انھوں نے دونوں میچوں میں نصف سنچری بنائی اور اپنی ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔

کرس جارڈن:

ابھرتے ہوئے آل راؤنڈر کرس جارڈن اس وقت انگلینڈ کے محدود اوورز کی ٹیموں کے اہم کھلاڑی ہیں اور 2015 کے ایک روزہ میچوں کے ورلڈ کپ اور 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ میں پچھلے سال رائل چیلینجرز بنگلور سے کھیلنے کے بعد اس سال ہونے والی بولی میں کرس جارڈن کو پچاس لاکھ انڈین روپوں میں حیدرآباد سن رائزر کی ٹیم نے خرید لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ایس ایل کے فائنل میں جیت کے بعد پشاور زلمی کے (دائیں سے بائیں) مارلن سیموئیل، ڈیرن سیمی، ڈیوڈ مالن اور کرس جارڈن

ڈیوڈ ملن:

انگلینڈ کے ہی ڈیوڈ ملن کو ابھی تک قومی ٹیم کا حصہ بننے کا اعزاز نہیں ہو سکا ہے لیکن وہ انگلینڈ کی اے ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور ڈومسٹیک کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے میں مشہور ہیں۔ دھواں دار بیٹنگ کرنے والے 29 ڈیوڈ ملن نے ٹی ٹوئنٹی میچوں میں دو سنچریاں بھی بنائی ہیں اور وہ پچھلے سال بھی پشاور زلمی کی ٹیم کے اہم رکن تھے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:

دو دفعہ کی فائنلسٹ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اپنے غیر ملکی کھلاڑیوں کی عدم شمولیت سے کافی نقصان ہوا لیکن اُن کے جانے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنی ٹیم میں ایلٹن چگمبورا، شان اروائن، ریاد امرٹ، انعام الحق اور مورنی وین وک کو جگہ دی۔

ریاد امرٹ:

ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑی ریاد امرٹ ایک بولنگ آل راؤنڈر ہیں اور اپنے کریئر میں اب تک 86 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 102 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ پی ایس ایل کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے انھوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور تین وکٹیں حاصل کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ریاد امرٹ پشاور زلمی کے ڈیوڈ مالن کو آؤٹ کر کے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے

ایلٹن چگمبورا:

پی ایس ایل کے فائنل سے قبل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں دو سال قبل کرکٹ کمز ہوم کے نعرے لگ چکے تھے جب مئی 2015 میں زمبابوے کی ٹیم چھ سالوں میں پہلی غیر ملکی ٹیم تھی جس نے پاکستان کا دورہ کرنے کی حامی بھری تھی اور اس ٹیم کی قیادت ایلٹن چگمبورا کر ہے تھے۔ ایلٹن چگمبورا کو اس دفعہ پی ایس ایل کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں جگہ نہ ملی لیکن آج سے دو سال قبل اسی میدان میں میں انھوں نے اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایک شاندار سنچری سکور کی تھی۔

مورنی وین وک:

جنوبی افریقہ کے مورنی وین وک پی ایس ایل کے فائنل سے قبل 2003 میں آخری دفعہ پاکستان اپنی قومی ٹیم کے ساتھ آئے تھے اور واپس آنے کے بعد بھی انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا کہ ان کو پاکستان میں ایک بار پھر کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ اپنے کرئیر میں 126 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے مورنی وین وک اب تک 3335 رنز بنا چکے ہیں لیکن پی ایس ایل کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے وہ خاطر خواہ کھیل نہ پیش کر سکے اور ایک رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔

شان اروائن:

زمبابوے کے ہی سابق کھلاڑی شان اروائن پی ایس ایل کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے سب سے زیادہ سکور بنانے والے کھلاڑی تھے اور جب تک وہ کریز پر موجود تھے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حامیوں کی امیدیں باقی تھیں۔ اپنا بیشتر کیرئر انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں گزارنے والے شان اروائن نے 174 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں اب تک 3000 سے زائد رنز بنائے ہیں۔

انعام الحق:

بنگلہ دیش کے جانب سے کھیلنے والے انعام الحق کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے فائنل میں کھیلنے کا موقع ملا لیکن جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور انعام الحق صرف تین رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ 24 سالہ انعام الحق نے اب تک اپنے ملک کے لیے کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں کھیل پیش کیا ہے اور 76 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں وہ اب تک 1678 رنز بنا چکے ہیں۔

سر ویون رچرڈز:

کئی ماہرین کے نزدیک دنیائے کرکٹ کے بہترین بلے باز اور وزڈن کے مطابق بیسویں صدی کے پانچ بہترین کرکٹرز میں سے ایک، سر ویون رچرڈز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے مینٹور رہے ہیں اور پی ایس ایل کے فائنل کے لیے وہ 30 سال بعد لاہور واپس گئے۔ عمران خان کے ہم عصر ویون رچرڈز کا ماضی میں کہنا رہا ہے کہ ان کے کیرئر کی بہترین کرکٹ انھوں نے عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے خلاف 80 کی دہائی میں کھیلی ہے۔

اسی بارے میں