اظہرعلی اور سہیل خان کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا: رمیز راجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے اظہرعلی اور سہیل خان کو منتخب نہ کرنے پر حیرت ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔

رمیز راجہ نے بی بی سی سے بات کرتےہوئے کہا کہ سہیل خان پاکستان سپر لیگ میں سولہ وکٹوں کے ساتھ سب سےکامیاب بولر رہے تھے اور وہ چار اوورز کی کرکٹ کے کارآمد بولر ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ جس طرح سلیکٹرز نے پاکستان سپر لیگ میں کامران اکمل کی عمدہ کارکردگی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ٹیم میں شامل کیا ہے اسی طرح سہیل خان کی فارم کو عزت دیتے ہوئے انہیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

رمیز راجہ نے پاکستان سپر لیگ میں سٹریٹجک بریک کے دوران سرعام مکی آرتھر کی جانب سے سہیل خان پر غصہ کرنے کے بارے میں کہا کہ ماضی میں یہ کام ڈریسنگ روم میں ہوا کرتا تھا اب مکی آرتھر نے اسے سب کے سامنے کیا جو ہونا نہیں چاہیے تھا۔ آج کل کی کرکٹ میں منیجر یا ہیڈ کوچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آج کل چیزیں ڈرامائی انداز میں تبدیل ہورہی ہیں جن کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ انہیں اظہرعلی کو ون ڈے ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر حیرت ہوئی ہے کیونکہ اظہرعلی کی کارکردگی اتنی بری بھی نہیں تھی ۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیم کے سلیکشن میں بالکل نئی سمت اختیار کررہا ہوتا اور پہلی تین پوزیشنز پر ایسے بیٹسمینوں کو منتخب کرتا جو پہلے دس اوورز میں سو رنز بنانے والے ہوتے تب اظہرعلی کی ٹیم میں جگہ شاید نہ بنتی لیکن اس وقت ان کی پچاس اوورز کی کرکٹ میں جگہ بنتی ہے خاص طور پر ویسٹ انڈیز میں جہاں وکٹیں مشکل ہونگی ٹیم کو ایک تجربہ کار بیٹسمین کی ضرورت ہوگی۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ سلیکشن کو طویل المیعاد سلیکشن نہیں کہا جاسکتا بلکہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سلیکشن کیا گیا ہے جس کی ایک مثال کامران اکمل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں