کرپٹ کھلاڑیوں پر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کردیے جائیں، مصباح الحق

  • 19 مار چ 2017
مصباح تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مصباح الحق نے کہا کہ آپ بار بار اس طرح کی صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس سے کھیل اور ملک دونوں کا وقار بری طرح مجروح ہوتا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کرکٹ کرپشن میں ملوث کرکٹرز پر ہمیشہ کے لیے کھیل کے دروازے بند کر دینے چاہئیں اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے تاحیات پابندی جیسا سخت قدم اٹھانا ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ اس وقت پی ایس ایل کرپشن سکینڈل میں گھری ہوئی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس میں مبینہ طور پر ملوث پانچ کرکٹرز کو معطل کرچکا ہے۔

سپاٹ فکسنگ: ’ملوث کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائیں‘

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالشید شکور کے مطابق مصباح الحق نے اتوار کے روز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران جو سکینڈل سامنے آیا ہے اس نے پاکستان کی پچھلے سات سال کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا ہے جو پاکستان کی کرکٹ کا امیج بلند کرنے کے لیے کی تھی۔

یاد رہے کہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں ملوث تین کرکٹرز سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر کو نہ صرف آئی سی سی نے سزا دی تھی بلکہ یہ تینوں کرکٹرز اس جرم میں جیل بھی گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو پاکستانی ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا اور ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے اہم کامیابیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستان کرکٹ کا مثبت امیج بھی نمایاں کیا۔

مصباح الحق نے کہا کہ اگر اس طرح کے افسوسناک واقعات بار بار دوہرائے جاتے رہے تو پھر ہمیں کرپٹ کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی جیسے سخت قدم بھی اٹھانے پڑیں گے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کا موثر تدارک کیا جائے اور اگر کوئی اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اس پر ہمیشہ کے لیے کرکٹ کے دروازے بند ہونے چاہیئں۔

مصباح الحق نے کہا کہ آپ بار بار اس طرح کی صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس سے کھیل اور ملک دونوں کا وقار بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ 2010 میں جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے بڑی قربیانیاں دیں اور ملکی وقار کو بحال کرنے کے لیے سخت محنت کی لیکن پی ایس ایل سکینڈل کے بعد اب کرکٹرز کو ایک بار پھر محتاط رہنا پڑے گا اور اپنے طرز عمل سے ایک بار پھر ملک کا امیج بحال کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں