ون ڈے کھیلنے کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے ، مکی آرتھر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو امید ہے کہ نئے کپتان سرفراز احمد اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستانی ٹیم ون ڈے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

ویسٹ انڈیز کے دورے پر روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ سفید گیند کی کرکٹ ( ون ڈے ) کھیلنے کے انداز میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ نئے کپتان سرفراز احمد کے آنے سے مطلوبہ نتائج سامنے آسکیں گے جو جارحانہ طرز کی کرکٹ کے کھلاڑی ہیں۔

مکی آرتھر نے کہا کہ وہ سرفراز احمد اور سابق کپتان اظہرعلی کا موازنہ نہیں کریں گے تاہم یہ ضرور ہے کہ ٹیم مجموعی طور پر اچھی کرکٹ نہیں کھیل رہی تھی۔

واضح رہے کہ ون ڈے کی کپتانی چھوڑنے کے بعد اظہرعلی ویسٹ انڈیز کے دورے میں عام بیٹسمین کی حیثیت سے بھی جگہ نہیں بناسکے ہیں۔

مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم متوازن ہے البتہ اس کی بولنگ میں بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ حالیہ ٹیسٹ میچوں میں یہ حریف ٹیم کی بیس وکٹیں حاصل نہیں کرسکی ۔

مکی آرتھر نے واضح کردیا کہ فاسٹ بولر سہیل خان سے ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔ تاہم سہیل خان کو دیگر نوجوان فاسٹ بولر کے مقابلے میں اپنی فیلڈنگ میں بہتری لانی ہوگی۔

مکی آرتھر نے کہا کہ شرجیل خان کا نہ ہونا ٹیم کے لیے بڑا نقصان ہے۔انہیں نہیں پتہ کہ شرجیل خان نے یہ سب کچھ کس دباؤ کے تحت کیا لیکن پیسے کی لالچ لے ڈوبتی ہے۔

مکی آرتھر نے کہا کہ شرجیل خان بہت جلد تینوں فارمیٹس میں ایک زبردست جارحانہ بیٹسمین کا روپ دھارنے والے تھے۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈکوچ نے کہا کہ دنیا کا ہر کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کھلاڑیوں کو کرپشن سے بچنے سے متعلق لیکچرز دیتے ہیں لیکن اس میں زیادہ ذمہ داری کھلاڑی کو خود دکھانی پڑتی ہے وہ اپنے طرز عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

اسی بارے میں