'کیا اب میں خبروں میں آؤں گی؟'

Image caption سپیشل اولمپکس 2017 کے عالمی سرمائی مقابلوں میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

'پرویز کو جب تربیتی کیمپ میں لایا گیا تو انھیں یہی پریشانی تھی کہ اب وہ مزدوری کیسے کریں گے۔' گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ پرویز احمد کا تعلق نہایت پسماندہ گھرانے سے ہے۔

ڈاؤن سنڈروم جیسی لاعلاج بیماری کا شکار ہونے کے باوجود پرویز احمد کھیتی باڑی اور مزدوری کرکے اپنی والدہ کی مدد کرتے ہیں۔ وہ ان بارہ خصوصی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھوں نے سپیشل اولمپکس 2017 کے عالمی سرمائی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

پرویز احمد نے سنو شوئنگ کے عالمی مقابلوں میں سو میٹر، دو سو میٹر اور ریلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے چاندی کے تین تمغے جیتے۔

Image caption پرویز احمد نے سنو شوئنگ کے عالمی مقابلوں میں چاندی کے تین تمغے جیتے

ان کی کوچ آمنہ بیگ بتاتی ہیں کہ پرویز احمد کو قائل کرنا مشکل تھا کہ انھیں فی الحال مزدوری کے لیے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ 'اب وہ اپنے ملک کے لیے ایک بڑا کام کرنے جا رہے ہیں۔'

آمنہ بیگ گلگت بلتستان میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے قائم واحد غیر سرکاری ادارے میں بطور کوچ فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ پاکستان سپیشل اولمپکس سے منسلک ہیں۔

واضح رہے کہ سپیشل اولمپکس 2017 کے عالمی سرمائی مقابلوں میں پاکستان کے ان خصوصی ایتھلیٹس نے کل سولہ تمغے جیتے ہیں جن میں تین طلائی، چاندی کے سات اور کانسی کے چھے تمغے شامل ہیں۔

ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہونے کے باعث پرویز احمد کا تلفظ واضح نہیں اور انھیں اپنی بات سمجھانے کے لیے الفاظ کے انتخاب اور ادائیگی میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے ارد گرد موجود ساتھیوں سے نہایت محبت سے ملتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بھی بات کی اور اپنے لڑکھڑاتے انداز میں بتایا کہ انھیں اولمپکس 'پہلے تو مشکل لگے مگر اب، میڈل جیتنے کے بعد، سب آسان لگتا ہے۔'

Image caption تہمینہ نے بھی چاندی کے دو تمغے حاصل کیے ہیں

ان کی بہن کا کہنا ہے کہ 'بچپن سے اب تک پرویز کو ہم نے اتنا سپورٹ نہیں کیا جتنا کہ انھوں نے ہمیں کیا ہے۔ وہ ہم سب نارمل انسانوں سے بہتر انسان ہیں۔'

یاد رہے کہ 14 مارچ سے 25 مارچ تک کھیلے جانے والے ان عالمی مقابلوں میں 110 ممالک کے تین ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ مقابلوں میں پاکستان کی صباحت طارق نے سو میٹر 'سنو شوئنگ' دوڑ میں سونے کا تمغہ جیتا، خذیفہ قاضی نے دو سو میٹر جبکہ رمشا نعیم نے چار سو میٹر سنو شوئنگ ریس میں طلائی تمغے اپنے نام کیے ہیں۔

ان مقابلوں میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے حمیز الدین اور ان کی بہن تہمینہ نے بھی چاندی کے دو تمغے حاصل کیے ہیں۔

آمنہ بیگ کے مطابق تربیتی کیمپس کے دوران پندرہ سالہ تہمینہ کی کئی ماہ خصوصی تھراپی کی گئی جس کے بعد انہیں کھیل کی طرف مائل کیا گیا اور آج وہ کیمپ کی 'سٹار ایتھلیٹ' ہیں۔

Image caption معذوری کا شکار یہ بچے ذہنی مریض نہیں، بس تھوڑے سے مختلف ہیں

تہمینہ نے کراس کنٹری مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا ہے۔ انھیں خبروں میں آنے کا اس قدر شوق ہے کہ ہر تصویر بنوانے پر وہ نہایت معصومیت سے پوچھتی ہیں: 'کیا اب میں خبروں میں آؤں گی؟'

ان خصوصی بچوں کو عالمی مقابلو ں کے لیے تیارکرنابھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

آمنہ بیگ نے ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں ان بچوں کے اس قابل بنایا کہ وہ کامیابی اپنے نام کر سکیں۔ سہولیات کے فقدان اور وسائل کی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آمنہ بیگ نے کہا کہ'گلگت بلتستان میں خصوصی بچوں کی تربیت کے لیے کوئی سرکاری سکول موجود ہے نہ ہی فنڈز میسر ہیں۔'

آمنہ کہتی ہیں کہ ڈیڑھ سال پہلے شروع کیے جانے والے اس مشکل سفر میں کئی بار انھیں اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ان بچوں کے لیے کوئی مالی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوا تھا۔

Image caption آمنہ بیگ نے ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں ان بچوں کے اس قابل بنایا کہ وہ کامیابی اپنے نام کر سکیں

ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود 'حکومت کی جانب سے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ 'ہماری تھوڑی سی کوشش، معمولی سی مالی مدد اور ذرہ سی توجہ ان بچوں کی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'معذوری کا شکار یہ بچے ذہنی مریض نہیں، بس تھوڑے سے مختلف ہیں۔'

واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے تو ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا تاہم پاکستان سپر لیگ کی فاتح ٹیم پشاور زلمی فرنچائز کے مالک جاوید آفریدی نے ایک ٹویٹر پیغام میں اعلان کیا ہے کہ وہ ان مقابلوں میں حصہ لینے والے ہر کھلاڑی کو ایک ایک لاکھ روپے کی رقم بطور تحفہ دیں گے۔

اسی بارے میں