وراٹ کوہلی کی ’آسٹریلین کھلاڑیوں سے دوستی ختم‘

کوہلی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل وراٹ کوہلی نے مہمان ٹہم کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 'میدان کے باہر ان لڑکوں کے اچھے دوست ہیں'

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد کہنا ہے کہ ان کی آسٹریلین کھلاڑیوں کے ساتھ دوستی ختم ہوگئی ہے۔

منگل کو انڈیا نے چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کی تھی۔

پونے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل وراٹ کوہلی نے مہمان ٹہم کے کھلاڑیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 'میدان کے باہر ان لڑکوں کے اچھے دوست ہیں۔'

تاہم دھرم شالہ میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی ایسا ہی تو ان کا کہنا تھا کہ 'نہیں، اب تبدیلی آچکی ہے۔ اب آپ مجھے ایسا کہتے ہوئے کبھی نہیں سنیں گے۔'

خیال رہے کہ وراٹ کوہلی زخمی ہونے کے باعث آخری ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے تھے اور سیریز کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ آسٹریلین کپتان سٹیو سمتھ نے ریویو کے لیے ڈریسنگ روم سے مدد لینے کی کوشش کر کے 'حد پار کی تھی۔'

چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں انڈیا کو 333 رنز سے شکست ہوئی تاہم ان کے بعد انڈیا کے دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز ایک ایک سربرابر کر دی تھی۔

اس میچ کے دوران ایک ایل بی ڈبلیو آؤٹ پر ریویو پر سمتھ کو ڈریسنگ روم کی طرف سے مدد طلب کرتے دیکھا گیا تھا، جو کہ ایک ممنوعہ عمل ہے۔

تیسرے ٹیسٹ میچ میں باؤنڈری پر گیند روکتے ہوئے کوہلی کا کندھا زخمی ہوگیا تھا جس پر آسٹریلین کھلاڑی گلین میکسویل نے ان کو مذاق اڑایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وراٹ کوہلی زخمی ہونے کے باعث آخری ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے تھے

چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران بی سی سی آئی نے اپنی ویب سائٹ پر رویندر جڈیجا اور آسٹریلین وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کے درمیان تلخ کلامی کی ویڈیو جاری کی۔

سٹیو سمتھ کا کہنا تھا کہ 'اس سیریز کے دوران بعض اوقات میرے جذبات اور عمل ڈگمگا گئے اور میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ میرے لیے آگے بڑھنے کے لیے بہت بڑا قدم ہے اور اس میں بطور میں انفرادی طور پر اور ایک رہنما کے طور پر واقعی سیکھ سکتا ہوں۔'

سمتھ کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی کی جانب سے جڈیجا اور ویڈ کی ویڈیو جاری کرنے انھیں 'تھوڑی بہت مایوسی ہوئی ہے۔'

'سیریز کے دونوں یہ دونوں جانب سے ہوتا رہا۔ میرے خیال عام طور پر جو کچھ میدان میں کہا جاتا ہے میدان میں ہی رہتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں