محمد عرفان پر ایک سال کی پابندی، دس لاکھ جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عرفان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان رابطوں کے بعد انھوں نے پی سی بی کو آگاہ نہیں کیا جو کہ ان کی غلطی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپاٹ فکسنگ کیس میں کھلاڑی محمد عرفان کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر دس لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

محمد عرفان کو یہ سزا بوکیز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن سیل کو آگاہ نہ کرنے پر دی گئی ہے۔

محمد عرفان کا سنٹرل کانٹریکٹ بھی چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

محمد عرفان نے پاکستان کی جانب سے 4 ٹیسٹ میچ، 60 ون ڈے انٹرنیشنل، اور 20 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عرفان کا کہنا تھا کہ بوکیز نے ان سے دو مرتبہ رابطہ کیا تاہم انھوں نے بوکیز کو ’شٹ آپ‘ کال دی اور کسی قسم کی بدعنوانی نہیں کی۔

محمد عرفان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان رابطوں کے بعد انھوں نے پی سی بی کو آگاہ نہیں کیا جو کہ ان کی غلطی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اس فعل سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ ان سے معافی مانگتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ پاکستانی قوم انھیں معاف کر دے گی۔

اس موقعے پر پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس پابندی کا اطلاق 14 مارچ 2017 سے ہوگا۔ محمد عرفان کو اس تاریخ کو عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سال فروری میں کھیلے جانے والی پاکستان سپر لیگ کے سیزن ٹو کے آغاز پر پاکستانی کھلاڑیوں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان پر سپاٹ فکسنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے سات رکنی اینٹی کرپشن ٹریبونل نے سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں اپنی ابتدائی سماعت جمعے سے لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں شروع کی تھی اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس معاملے میں سامنے آنے والے کھلاڑیوں کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی منظوری دی تھی۔

اسی بارے میں