’پاکستان اور بھارت کی دو طرفہ سیریز کا کوئی امکان نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption شہریار خان نے اگلی ٹرم کے دوران پی سی بی سے اپنی رخصت کے بارے میں بھی بتایا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی موجودہ حکومت کے دوران پاکستان اور بھارت کی دو طرفہ سیریز کا کوئی امکان نہیں۔ اُنھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ انڈیا کے دو طرفہ سیریز نہ کھیلنے کے فیصلے سے ہونے والے نقصان کا معاملہ پہلے انٹرنشنل کرکٹ کونسل اور بعد میں عدالت میں لے جائیں گے۔

انڈیا کو پاکستان کے خلاف سیریز کی اجازت نہ مل سکی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ نے دوہزار چودہ میں کیئے جانے والے اُس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس کی رو سے انڈین اور ہاکستانی کرکٹ ٹیموں کو چھ سیریز کھیلنی تھیں۔

انھوں نے کہا، 'انڈیا پاکستان کی جو سیریز ہے، جس کا ہم نے دوطرفہ معاہدہ کیا تھا، اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ دو ہزار چودہ میں ایک اگریمنٹ شائع ہوا تھا جسے ایم او یو کہا جاتا ہے۔ وہ اگریمنٹ ہونے کے باوجود، جس میں آٹھ سال کے اندر چھ سیریز کھیلنی تھیں، ان میں سے دو پہلے ہی ضائع ہو گئی ہیں اور جو تیسری آنے والی ہے وہ بھی میرے خیال سے نہیں چلے گی۔'

شہریار خان کا کہنا تھا کہ اِس معاملے کو اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بعد میں عدالت میں لے جایا جائے گا۔

'ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ ہم ایک قانونی کیس بنا کر ہندوستان کے خلاف آگے بڑھیں۔ پہلے تو ان سے کہیں کہ آپ کی وجہ سے ہمیں مجبوراً ایسا کرنا پڑ رہا ہے اور اس میں ہمیں جو نقصان اٹھانا پڑا ہے، اسے پورا کریں۔ ہم تو صرف کرکٹ کھیلنے آئے تھے۔ مگر اب آپ کو نوٹس دے رہے ہیں۔ اور پھر اس کو ہم آئی سی سی کی ڈِسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی میں لے جائیں گے۔ اگر وہاں ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوا تو پھر ہم کورٹ میں جائیں گے اور اس کے لیے ہم نے اپنا قانونی کیس تیار کیا ہوا ہے۔'

نیوز کانفرنس میں اُنھوں نے کرکٹ کے بگ تھری کو ختم کرنے کے بارے میں پاکستان کی پالیسی بھی واضح کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئی سی سی میں جا کر بِگ تھری کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کا مینڈیٹ مجھے بورڈ سے مل گیا ہے۔'

پی سی بی کے چیئر مین نے بتایا کہ رواں سال ستمبر کے مہینے میں کرکٹ کی ورلڈ الیون پاکستان کا دورہ کرئے گی اور چار میچز کھیلے گی، اس کے پاکستان آنے سے یہاں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے مزید کھلیں گے۔ اِس موقع پر شہریار خان نے اگلی ٹرم کے دوران پی سی بی سے اپنی رخصت کے بارے میں بھی بتایا۔

’فیصلہ یہ ہے کہ میں اگلی مرتبہ یعنی اگلی اگست میں ہمارا مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد نہیں آؤں گا، نہ چیئرمین، نہ کسی اور عہدے پر۔ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے۔‘

پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان نے پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے پر مسرت کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ رواں سال جولائی تک پاکستان کی بایو مکینیکل لیب کو آئی سی سی کی جانب سے ایکریڈٹیشن مل جائے گی۔

اسی بارے میں