ویسٹ انڈین کرکٹ کے زوال کا سبب متکبر انتظامیہ ہے: ویون رچرڈز

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویو رچرڈز کا کہنا تھا کہ 'ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کھلاڑی غریب خاندانوں سے ہے‘

ویسٹ انڈیز کے سابق مایہ ناز کرکٹر سر ویوین رچرڑذ نے 'متکبر' کیریبئن انتظامیہ پر ویسٹ انڈین کرکٹ کے زوال کا الزام عائد کیا ہے اور تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے وہ خود کو کھلاڑیوں جتنا اہم سمجھتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کرکٹ کے میدانوں پر حکمرانی کرتی تھی اور ویوین رچرڈز اس دور میں ویسٹ انڈین ٹیم کا حصہ تھے تاہم اب ٹیسٹ کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم سہرفہرست نہیں رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم جون میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے جس میں آٹھ بہترین ٹیمیں شرکت کرتی ہیں اور سنہ 2019 کے عالمی کپ میں بھی اس کی شرکت خطرے سے دوچار ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز جمعے سے ہورہا ہے اور یہ سیریز عالمی کپ میں جگہ بنانے کے لیے دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہے تاہم ویسٹ انڈیز کے بیشتر کھلاڑی اس وقت انڈین پریمیئر لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویو رچرڈ سنہ 1979 کے عالمی کپ کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے ساتھ ایک انٹرویو میں رچرڈز کا کہنا تھا کہ 'آپ کی انتظامیہ متکبر ہے، لڑکے اپنی مرضی سے انتخاب کریں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کھلاڑی غریب خاندانوں سے ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ انتظامیہ کے کچھ افراد یہ سجھتے ہیں کہ وہ اتنے ہی اہم ہیں جنتے میدان میں کھلاڑی۔ ایسا نہیں ہے۔'

گذشتہ کئی برسوں میں ویسٹ انڈیز کے کئی نامور کھلاڑیوں نے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹرکٹ سے انکار کرتے ہوئے مختلف ٹی 20 لیگز کھیلنے کو ترجیح دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں