مصباح کے بعد یونس خان کا بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان

یونس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین یونس خان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔

یونس خان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی طرف سے ملک کی بہترین خدمت کرنے کی کوشش کی۔

'میں نے اپنے ملک کو آگے لے جانے کی کوشش کی اور اگر اس حوالے سے مجھ سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کو نظر انداز کریں۔'

سابق کپتان نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور جس طرح میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ آیا ہوں اس کی وجہ بھی یہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرفراز احمد کے پاس موقع ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کو آگے لے کر جائے۔ 'میرے خیال میں کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر یونس خان نہیں کھیل رہا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔'

یونس خان نے 13 فروری 2000 کو بین الاقوامی کیرئر کا آغاز کراچی میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز سے کیا جہاں انھوں نے 46 رنز بنائے تھے۔

پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے یونس خان نے 26 فروری کو اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں کھیلا اور اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنائی۔

یونس خان نے 115 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں34 سینچریاں سکور کیں اور 9977 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا سب سے زیادہ سکور 313 ہے جو انھوں نے 2009 میں سری لنکا کے خلاف سکور کیے۔ یہ سکور پاکستان کی جانب سے کسی بھی کھءلاڑی کا تیسرا سب سے زیادہ سکور ہے۔ پہلے نمبر پر حنیف محمد ہیں 337 رنز کے ساتھ اور دوسرے نمبر پر انضمام الحق 329 رنز کی اننگز کے ساتھ۔

ان کا نام حال ہی میں وزڈن کے سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا۔

یونس خان نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا جاوید میانداد کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ انھوں نے انضمام الحق کا سب سے زیادہ 25 سینچریوں کا ریکارڈ بھی توڑا۔

یونس خان نے اپنی قیادت میں پاکستان کو 2009 میں ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چمپیئن بنایا جو 1992 کے ورلڈکپ میں فتح کے بعد پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ٹی ٹوئنٹی سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔

یونس خان نے نومبر 2015 میں آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ایک روزہ سیریز کے دوران ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے 265 ایک روزہ میچوں میں سات سینچریوں اور 48 نصف سینچریوں کی مدد سے 7249 رنز بنائے جبکہ تین وکٹیں بھی حاصل کیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں