ویلڈنگ اور چمڑے کی فیکٹری سے ویسٹ انڈیز تک

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

ستائیس سالہ فاسٹ بولر محمد عباس کا پہلی بار پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونا سلیکٹرز کا اچانک فیصلہ نہیں ہے۔

اس سلیکشن کے پیچھے گذشتہ دو فرسٹ کلاس سیزن میں ان کی عمدہ کارکردگی ہے جس نے انضمام الحق اور ان کے ساتھی سلیکٹرز کو اس سلیکشن کے لیے زیادہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

محمد عباس نے خان ریسرچ لیبارٹریز ( کے آر ایل ) کی طرف سے اس سیزن میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے قائداعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ 71 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

گذشتہ سال بھی وہ سیزن میں سب سے زیادہ 61 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر تھے۔ اس سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے بھی کھیلتے ہوئے انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

ریجنل کرکٹ میں سیالکوٹ کی نمائندگی کرنے والے محمد عباس کا تعلق سمبڑیال تحصیل کے گاؤں جیٹھی سے ہے جہاں انھوں نے سکول کرکٹ اور ٹیپ بال سے اپنے شوق کی ابتدا کی اور کلب کرکٹ بھی کھیلی لیکن گاؤں سے ویسٹ انڈیز پہنچنے تک انھوں نے زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھے ہیں۔

محمد عباس کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے والدین کا سب سے بڑا بیٹا ہوں لہذا گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے لیے روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر جانے کا بھی ارادہ کیا لیکن دوستوں نے مشورہ دیا کہ یہیں رہو حالات یہیں اچھے ہوں گے۔‘

’میں نے تقریباً آٹھ ماہ ویلڈنگ کا کام کیا، چمڑے کی ایک فیکٹری میں ملازمت کی اور پھر تقریباً دو سال تک کچہری میں پراپرٹی کی رجسٹری کا کام بھی کیا۔ میں کسی بھی صورت میں کرکٹ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔‘

نوجوان فاسٹ بولر محمد عباس کا کہنا ہ کہ ’اسی دوران مجھے ڈسٹرکٹ انڈر19 میں کھیلنے کا موقع ملا جب میں نے وکیل دوستوں کو بتایا تو پہلے انھوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا لیکن پھر میچ کھیلنے کی اجازت دے دی۔‘

محمد عباس کو آج تک یاد ہے کہ ڈسٹرکٹ انڈر19 کے اس میچ میں وہ ٹاس کی بنیاد پر ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔

’میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب میرا مقابلہ ایک اور لڑکے سے تھا اور فیصلہ یہ کیا گیا کہ جو بھی ٹاس جیتے گا وہ یہ میچ کھیلے گا۔ میں وہ میچ کھیلا اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ میری ٹیم اس سال چیمپیئن بنی اور اگلے سال بھی میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔‘

محمد عباس کا کہنا ہے کہ محنت کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی اور اس کا صلہ ضرور ملتا ہے۔

’کسی بھی کھلاڑی کے لیے پرفارمنس کا اہم پلیٹ فارم فرسٹ کلاس کرکٹ ہے اور میری فرسٹ کلاس کرکٹ کی کارکردگی ہی مجھے آج پاکستانی ٹیم تک لے آئی ہے۔‘

عام طور پر پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی وکٹوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیٹنگ کے لیے سازگار ہوتی ہیں اور بولنگ میں زیادہ تر سپنرز کو ہی مدد ملتی ہے لیکن محمد عباس کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کا کام پرفارمنس دینا ہے۔

’اس سال قائداعظم ٹرافی میں دس میں سے صرف ایک میچ ایسا تھا جس میں ہماری ٹیم کو پہلے بولنگ کر کے وکٹ کا فائدہ اٹھانے کا موقع ملا تھا باقی نو میچوں میں ہم نے بعد میں بولنگ کی۔ وکٹ چاہے کیسی ہی ہو آپ کو محنت کرنی پڑتی ہے۔ میں بولنگ کرتے وقت بیٹسمین کی کمزوری اور خوبی دونوں پر نظر رکھتا ہوں اور اسی مناسبت سے بولنگ کرکے آؤٹ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘

محمد عباس کا کہنا ہے کہ وہ گلین میک گرا کو اپنا آئیڈیل بولر سمجھتے ہیں۔ وہ شان پولاک سے بھی بہت متاثر ہیں اور کہتے ہیں کہ ان دونوں بولرز کی لائن و لینتھ بہت اچھی تھی۔

محمد عباس خود کو اس لحاظ سےخوش قسمت سمجھتے ہیں کہ دو سال سے انھیں سیالکوٹ ریجن کی ٹیم میں پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا جن کے مفید مشورے ان کے بہت کام آرہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں