کرکٹ کے نئے قوانین تیار،اطلاق یکم اکتوبر سے

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایم سی سی کے مطابق قوانین اس طرح لکھے جا رہے ہیں جن میں صنفی امتیاز نہ ہو

کرکٹ کے قوانین وضع کرنے والے مارلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے تصدیق کی ہے کہ یکم اکتوبر سے کچھ قوانین میں تبدیلی کا اطلاق ہو گا جن میں برے برتاؤ پر کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنا بھی شامل ہے۔

'کھلاڑیوں کے برتاؤ' نامی قانون کے تحت امپائر کو کئی اختیارات دیے گئے ہیں جن میں رنز کا جرمانہ اور میچ سے کھلاڑی کو باہر نکال دینا شامل ہیں۔

'کرکٹ میں امپائر کی کوئی عزت نہیں رہی'

نئے قوانین کے تحت بلے کے سائز پر پابندی ہو گی اور بیلز کو وکٹوں سے جوڑ دینے کی اجازت ہو گی تاکہ گیند لگنے پر اڑتی ہوئی بیلز سے چوٹ نہ لگے۔

ایم سی سی نے بیٹسمین کی جانب سے ’ہینڈلڈ دی بال‘ کے قانون کو ختم کر دیا ہے اور اس وجہ سے آؤٹ ہونے کو فیلڈنگ میں رکاوٹ کے قانون میں ضم کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اب نان سٹرائیکر اینڈ پر کھلاڑی کریز میں ایک بار بلا رکھنے کے بعد رن آؤٹ نہیں کیا جا سکے گا جبکہ متبادل کھلاڑی کو وکٹ کیپنگ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

مارلیبون کرکٹ کلب کے مطابق قوانین اس طرح لکھے جا رہے ہیں جن میں صنفی امتیاز نہ ہو۔

اس نئے طریقے سے لکھے جانے والے قوانین میں اگرچہ بیٹسمین اور تھرڈ مین کی اصلاحات رکھی ہوئی ہیں لیکن قوانین میں ماضی میں استعمال کیے جانے والا لفظ 'ہی' (He) کا استعمال نہیں کیا گیا۔

ایم سی سی کے قوانین کے مینیجر فریزر سٹیورٹ کا کہنا ہے 'ایم سی سی نے قوانین مرتب کرنے کے لیے تحقیق کی ہے تاکہ یہ قوانین کھلاڑیوں، امپائرز اور شائقین کے لیےآسان ہوں۔'

انھوں نے مزید کہا 'ان قوانین کا اطلاق دنیا بھر میں ہو گا اس لیے ضروری ہے کہ یہ قوانین سمجھنے کے لیے آسان ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں