پی ایس ایل سکینڈل: خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو نئے نوٹس جاری

خالد لطیف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خالد لطیف پر 31 مارچ کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرز خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت نئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کرکٹ کے کھیل میں بدعنوانی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔

پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ: خالد لطیف پر فرد جرم عائد

پی ایس ایل سکینڈل ، شاہ زیب حسن بھی معطل

بورڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ نوٹس آف ڈیمانڈ اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 4.3 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

ان نوٹسز کے مطابق دونوں کرکٹرز سے پی سی بی کے سکیورٹی اینڈ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی مزید خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے حوالے سے ان دونوں کرکٹرز کے انٹرویو لیے جائیں گے۔

تاہم کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان 'مزید' خلاف ورزیوں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ معاملات کی حساسیت کی وجہ سے پی سی بی اس مرحلے پر مزید تبصرہ نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ اس سال فروری میں کھیلے جانے والی پاکستان سپر لیگ کے سیزن ٹو کے آغاز پر پاکستانی کھلاڑیوں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان پر سپاٹ فکسنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرکٹر شاہ زیب حسن کا معاملہ بھی اینٹی کرپشن ٹربیونل کے حوالے کر دیا گیا ہے

اس سکینڈل میں اب تک فاسٹ بولر محمد عرفان کو بُکیز سے رابطوں کے بارے میں کرکٹ بورڈ کو مطلع نہ کرنے پر ایک سال کے لیے معطل کیا جاچکا ہے اور ان پر دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ شرجیل خان اور خالد لطیف پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

خالد لطیف کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے پانچ مئی تک کی مہلت دی گئی ہے جبکہ ٹریبونل 19 مئی سے اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر شروع کرے گا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے کرکٹر شاہ زیب حسن کو معطل کیا جا چکا ہے اور 11 اپریل کو پی سی بی نے ان کا معاملہ بھی اینٹی کرپشن ٹربیونل کو سونپنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں