بلے بازوں نے ذمہ داری اٹھائی تو ہی پاکستان جیت سکتا ہے: اقبال قاسم

Image caption اقبال قاسم نے ٹیسٹ سکواڈ میں نوجوان لیگ سپنر شاداب خان کی شمولیت کو درست فیصلہ قرار دیا

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کھلاڑی اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم کی جیت کے امکانات روشن ہیں لیکن پاکستانی بیٹسمینوں کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

نامہ نگار صبا ناز کو انٹرویو دیتے ہوئے ‎اقبال قاسم نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کی سب سے بڑی کمزوری شارٹ پچ بولنگ اور باہر جاتی ہوئی گیندوں کو کھیلنا ہے اور بلے بازوں کو سیریز میں اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے سیریز بھی جیت لی

کیا پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے 26 سالہ ریکارڈ کا دفاع کر سکے گا؟

انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت تعمیرِ نو کے مرحلے میں ہے۔

’ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستانی ٹیم تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر کر آگے بڑھ رہی ہے۔ کپتان مصباح الحق اور باقی کھلاڑی کافی تجربہ کار ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موقع ملا ہے کہ وہ پہلی بار ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت سکے کیونکہ ویسٹ انڈین ٹیم خود بھی اس وقت مشکلات میں ہے۔'

اقبال قاسم نے ٹیسٹ سکواڈ میں نوجوان لیگ سپنر شاداب خان کی شمولیت کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا 'ان کی شمولیت سے ٹیم مضبوط ہوئی ہے۔ انھیں ٹی ٹوئنٹی میں سیکھنے کا موقع ملا۔ اب اگر انھیں ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کا موقع نہ ملا تو بھی اُن کے سیکھنے کا تجربہ مزید بہتر ہو گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کے مطابق شاداب خان میں اگر صلاحیت ہے تو انھیں کھیلنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ 'امکان ہے کہ کپتان دو رائٹ آرم لیگ سپنرز کھلانے کا چانس لے اور یہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔'

پاکستان کی جانب سے 50 ٹیسٹ میچوں میں 171 وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں پر اٹیک ضرور کرے گی تاہم یونس خان اور مصباح الحق کی موجودگی سے ان کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'مصباح الحق اور یونس خان کے جانے سے خلا ایک دن میں تو پورا نہیں ہو گا لیکن بابر اعظم، اسد شفیق اور محمد حفیظ جیسے کھلاڑیوں میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔'

انھوں نے نئے آنے والے کرکٹرز کو ٹیسٹ ٹیم میں کھلانے اور ان کی ٹریننگ پر زور دیا تا کہ مستقبل میں یہی نوجوان پرانے کرکٹرز کی جگہ لے سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں