پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ میچوں کی نصف سنچری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمعے سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے ساتھ ہی دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچوں کی نصف سنچری مکمل ہو جائے گی۔

اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان 16 ٹیسٹ سیریز میں 49 کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں۔

دونوں ٹیمیں اب تک پانچ، پانچ ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں جبکہ چھ سیریز برابر رہی ہیں۔

پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف اب تک 18 ٹیسٹ میچ جیت چکا ہے کہ جبکہ ویسٹ انڈیز کو 16 ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔

ان دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی دلچسپ واقعات اور ریکارڈ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز 1957-58 میں کھیلی جانے والی پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive

جبکہ اس سیریز کا آغاز انتہائی دلچسپ اور ڈرامائی انداز میں ہوا تھا، جب ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے اپنی پہلی اننگز میں 579 رنز بنائے تو جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 106 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

تاہم اس کے باوجود بھی یہ ٹیسٹ میچ بنا کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوا جس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے حنیف محمد کی ریکارڈ ساز اننگز تھی۔

حنیف محمد نے اس میچ میں 970 منٹ کریز پر گزار کر 337 رنز کی اننگز کھیلی تھی جو کہ ایک ریکارڈ بھی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان ایک اننگز میں سب سے زیادہ سکور کی بات کی جائے تو اس میں ویسٹ انڈیز کو برتری حاصل ہے جس نے 1958 ہی میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں تین کھلاڑیوں کے نقصان پر 790 رنز سکور کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے کم سکور کا اعزاز بھی ویسٹ انڈیز کے نام ہی ہے، جب فیصل آباد میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف 53 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔

انفرادی ریکارڈ کی بات کی جائے تو پاکستان کے محمد یوسف101 کی اوسط کے ساتھ 1214 رنز بنا کر سرفہرست ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز برائن لارا ہیں جنھوں نے پاکستان کے خلاف 1173 رنز بنا رکھے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے زیادہ سنچریاں بھی محمد یوسف ہی سکور کر چکے ہیں۔ انھوں نے آٹھ میچوں میں سات سنچریاں بنا رکھی ہیں۔

اس فہرست میں پہلا نمبر حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے اپنی آخری ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے یونس خان کو 306 رنز درکار ہیں۔

اب ذرا بولنگ پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں عمران خان حاصل کر چکے ہیں جن کی تعداد 80 ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر وسیم اکرم ہیں جو صرف ایک وکٹ ہی پیچھے ہیں۔

یہ سب ریکارڈ تو اپنی جگہ لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ آج تک پاکستان ویسٹ انڈیز کو اس کی ہوم سیریز میں شکست نہیں دے پایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حالیہ دورے کے دوران پاکستان میزبان ٹیم کو ون ڈے اور ایک روزہ میچوں کی سیریز میں تو شکست دے چکا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اپنی آخری سیریز کھیلنے والے مصباح الحق ان ریکارڈز کی فہرست میں ویسٹ انڈیز کو اس ہی کے ملک میں شکست دے کر ایک اور ریکارڈ کا اضافہ کر پائیں گے؟

اگر پاکستان یہ ٹیسٹ سیریز جیت جاتا ہے تو وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں اپنی پانچویں پوزیشن بھی برقرار رکھ سکے گا۔

آج سے شروع ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے دونوں ٹیموں کے سکواڈز کچھ یوں ہیں:

پاکستان: مصباح الحق (کپتان)، اظہرعلی، احمد شہزاد، شان مسعود، بابراعظم، یونس خان، اسد شفیق، عثمان صلاح الدین، سرفراز احمد، یاسر شاہ، شاداب خان، محمد اصغر، وہاب ریاض، محمد عامر، حسن علی اور محمد عباس۔

ویسٹ انڈیز: جیسن ہولڈر، دیوندرا بشو، جیرمائن بلیک وڈ، کریگ بریتھویٹ، راسٹن چیز، میگوئل کمنز، شین ڈورچ، شینن گیبریئل، شیمرون ہیٹمر، شئے ہوپ، الزاری جوذف، کائرن پاؤل، وشویل سنگھ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں