کنگسٹن: ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کے چار وکٹ پر 201 رنز

یونس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے مابین کنگسٹن میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنا لیے تھے۔

پاکستان کو ویسٹ انڈیز کی برتری ختم کرنے کے اب بھی 85 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی چھ وکٹیں باقی ہیں۔

٭ تفصیلی سکور کارڈ

’یہ کامیابی فیملی، والدین اور باب وولمر کے نام‘

'یونس خان ایک پاکستانی تھا'

اتوار کو جب کھیل ختم ہوا تو کریز پر کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق موجود تھے۔ مصباح الحق کو ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے مزید 46 رنز درکار ہیں۔

تیسرے دن کے کھیل کی اہم ترین چیز پاکستان کے تجربہ کار بلے باز یونس خان کے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنا رہی۔ وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پاکستان کے پہلے اور دنیا کے 13ویں بلے باز ہیں۔

یونس جب میدان میں اترے تو انھیں یہ سنگِ میل عبور کرنے کے لیے 23 رنز درکار تھے جنھیں بنانے میں انھوں نے 80 سے زیادہ گیندوں کا سامنا کیا۔ وہ نصف سنچری بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

ویسٹ انڈیز کے 286 رنز کے جواب میں پاکستان کے لیے اظہر علی اور احمد شہزاد کی جوڑی نے اننگز شروع کی تو پاکستان کی پہلی وکٹ صرف 23 کے سکور پر گر گئی۔

آؤٹ ہونے والے بلے باز اظہر علی تھے جو اننگز کے چھٹے اوور میں ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھلیتے ہوئے 15 کے انفرادی سکور پر کیچ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب احمد شہزاد 31 رنز بنا کر ہولڈر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

اس کے بعد بابر اعظم اور یونس خان نے محتاط انداز اپنایا اور نصف سنچریاں بنائیں۔ ان دونوں کے درمیان 131 رنز کی شراکت ہوئی تاہم پھر گیبریئل نے پہلے یونس اور پھر بابر کو آؤٹ کر دیا۔

یونس خان نے 58 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ بابر نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 72 رنز بنائے۔

اس سے قبل جب دن کے آغاز پر کھیل شروع ہوا تو ویسٹ انڈیز کی آخری وکٹ مجموعی سکور میں مزید آٹھ رنز کا اضافہ کرنے کے بعد گر گئی۔

آؤٹ ہونے والے آخری ویسٹ انڈین بلےباز گیبرئل تھے جو محمد عامر کی اس اننگز میں چھٹی وکٹ بنے۔ محمد عامر نے اس اننگز میں 44 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں جو اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے محمد عامر نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 44 رنز کے عوض چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

حالیہ دورے کے دوران پاکستان میزبان ٹیم کو ون ڈے اور ایک روزہ میچوں کی سیریز میں تو شکست دے چکا ہے۔

دونوں ٹیمیں اب تک پانچ، پانچ ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں جبکہ چھ سیریز برابر رہی ہیں۔

پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف اب تک 18 ٹیسٹ میچ جیت چکا ہے کہ جبکہ ویسٹ انڈیز کو 16 ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ آج تک پاکستان ویسٹ انڈیز کو اس کی ہوم سیریز میں شکست نہیں دے پایا ہے۔

پاکستان: مصباح الحق (کپتان)، اظہرعلی، احمد شہزاد، بابراعظم، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، یاسر شاہ، وہاب ریاض، محمد عامر اور محمد عباس۔

ویسٹ انڈیز: جیسن ہولڈر، دیوندرا بشو، کریگ بریتھویٹ، راسٹن چیز، میگوئل کمنز، شین ڈورچ، شینن گیبریئل، شیمرون ہیٹمر، شئے ہوپ، الزاری جوذف، کائرن پاؤل، وشویل سنگھ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں