’یونس نے ہمیشہ کھیل کی عزت کی، ٹیم اور ملک کو مقدم رکھا‘

یونس خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس خان پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچری بنانے والے کھلاڑی بھی ہیں

آج سے 17 سال قبل پاکستان اور سری لنکا راولپنڈی میں مدمقابل تھے۔ یہ دوطرفہ ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ تھا۔ کپتان سعید انور ٹاس ہار گئے اور جے سوریا نے پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے ڈالی۔ پاکستانی بیٹنگ حسب روایت اس دعوت کو ہضم نہ کر پائی اور صرف 182 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔

چھٹے نمبر پہ بیٹنگ کے لیے ایک دبلا پتلا سا لڑکا آیا۔ یہ اس کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا اور سکور بورڈ کا دباؤ اس سے سوا تھا۔ جس بولنگ اٹیک کے سامنے سعید انور، عامر سہیل،انضمام الحق اور یوسف کچھ نہ کر پائے، وہاں یہ 22 سالہ نوجوان کیا کرتا۔ اس نے 55 گیندوں کا سامنا کیا اور صرف 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا۔

٭ یونس خان واپس آئے اور چھا گئے

٭ ’یونس خان نائنٹیز میں نروس نہیں ہوتے‘

میچ کی دوسری اننگز میں جب وہی لڑکا دوبارہ بیٹنگ کے لیے آیا تو پاکستان پہلی اننگز کا خسارہ بھگتاتے بھگتاتے پانچ وکٹیں گنوا چکا تھا مگر وہ لڑکا ڈٹ گیا۔ دوسرے اینڈ پر وکٹیں گرتی رہیں لیکن پھر وسیم اکرم کے ہمراہ نویں وکٹ کے لیے 145 رنز کی پارٹنرشپ بنا کر اس لڑکے نے ایک مردہ میچ میں جان ڈال دی۔ اگرچہ نہایت سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان وہ میچ دو وکٹوں سے ہار گیا لیکن وہ لڑکا ڈیبیو پہ سینچری کرنے والا ساتواں پاکستانی بن گیا۔

آج 17 برس بعد وہی لڑکا ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا پاکستانی بن چکا ہے۔ آج یونس خان صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا کے چند بہترین بلے بازوں کی فہرست میں کھڑے ہیں۔

اگرچہ ڈیبیو پہ سینچری کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن تب یونس کی تکنیک اور سٹائل کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا بھی ممکن نہیں تھا کہ یہ لڑکا وہ کچھ کر جائے گا جو اس سے پیشتر آنے والے کئی عظیم بلے باز بھی نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹیسٹ کرکٹ دنیا کا مشکل ترین کھیل ہے۔ کوئی دوسرا کھیل مسلسل پانچ دن اور 15 سیشنز تک کھلاڑی کے اعصاب کا امتحان نہیں لیتا۔ اس کھیل میں بعض اوقات ایک ایک رن کے لیے پہروں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک سینچری کے لیے پورا پورا دن کریز پہ گزارنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں، اس بیچ کم از کم دو وقفوں سے، اور بسا اوقات رات بھر انتظار سے گزرنا پڑتا ہے۔

کنگسٹن میں جب یونس خان بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو سبھی کو اس لمحے کا انتظار تھا جب صرف 23 رنز بنانے کے بعد وہ 10،000 رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے پہلے پاکستانی ٹھہریں گے۔ خود یونس خان کو ان 23 رنز کے لیے، بارش کے سبب، کم از کم ایک اور رات انتظار میں کاٹنا پڑی تھی۔ لیکن کریز پر آتے ہوئے یونس کی چال سے ایسی کوئی بے صبری نہیں جھلک رہی تھی۔

پہلا رن بنانے کے لیے یونس نے 19 گیندوں تک انتظار کیا۔ گو وہ اپنے ہدف سے چند ہی قدم دور تھے لیکن ویسٹ انڈیز کی اچھی بولنگ کا احترام کرتے کرتے لنچ کا وقفہ آ گیا۔ تب تک یونس بغیر کوئی رن بنائے دس گیندیں کھیل چکے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یونس کو تاریخ رقم کرنے کے لیے کم از کم 40 منٹ اور انتظار کرنا پڑے گا۔

لیکن لنچ کے بعد بھی یونس نے کسی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جب چائے کے وقفے کے لیے یونس خان میدان سے باہر جا رہے تھے تو وہ 82 گیندیں کھیل چکے تھے لیکن پھر بھی اس تاریخی اعزاز سے ایک رن پیچھے تھے۔ گویا ایک رن کے لیے انھیں کم از کم 20 منٹ مزید انتظار کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بالآخر چائے کا وقفہ ختم ہوا۔ یونس واپس آئے۔ روسٹن چیز نے بولنگ کا آغاز کیا۔ اوور کی دوسری گیند پہ یونس خان نے اپنا گھٹنا زمین پہ ٹکایا اور فائن لیگ کی جانب سویپ شاٹ کھیل کر تاریخ میں امر ہو گئے۔

یونس کے تمام کریئر کو ایک طرف رکھ دیجیے اور صرف ان کے کریئر کی اس اہم ترین اننگز کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ ایک اننگز ہی اس سوال کا جواب دینے کو کافی ہے کہ کیسے ایک اوسط تکنیک اور معمولی سٹائل والے کھلاڑی نے وہ کر دکھایا جو اس سے کہیں بہتر تکنیک اور سٹائل والے میانداد، انضمام اور یوسف بھی نہ کر پائے۔

اور اسی پہ موقوف نہیں، یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے معمر ترین کھلاڑی ہیں۔ 39 سال وہ عمر ہے جب ٹیسٹ پلیئرز یا تو کسی ڈریسنگ روم میں بیٹھے نوجوانوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں یا پھر کمنٹری باکس میں بیٹھے اپنے ماضی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن یونس خان اپنی عمر کے 39 سال اور 145 دن گزارنے کے بعد سبائنا پارک میں کھڑے ڈریسنگ روم کی جانب بلا لہرا رہے تھے اور اپنی شرٹ پہ پاکستان کے بیج کو چوم رہے تھے۔

سوال یہ ہے کہ یونس خان جیسے بیٹسمین نے یہ طویل سفر کیسے طے کر لیا۔

پاکستان کے کرکٹ کلچر میں 17 سال گزارنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس وادی پرخار سے گزرنے کے دوران ان کی تکنیک تو موضوع سخن رہی ہی، ٹیم میں ان کی جگہ بھی ہمیشہ شرح غالب کی طرح گھمسان کے مباحث برپا کرتی رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ کئی بار ڈراپ ہوئے۔ بارہا انھیں بتایا گیا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے، انھیں چلے جانا چاہیے۔ نہ تو وہ کبھی پی سی بی کے محبوب رہے اور نہ ہی میڈیا کی آنکھوں کا تارا۔ اور ستم یہ کہ انھیں سرف، نمکو اور بوتلیں بیچنے کا ہنر بھی نہیں آتا تھا۔

لیکن اس سب کے درمیان ایک چیز تھی جو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ وہ تھی یونس خان کی کرکٹ کے لیے عزت۔ کہنے والوں نے جو بھی کہا، یونس نے ہمیشہ اپنے کھیل کی عزت کی۔ اپنی ٹیم کو ترجیح دی۔ اپنے ملک کو مقدم رکھا۔

یونس خان کہتے ہیں کہ جب کبھی وہ بہترین بیٹنگ کے ریکارڈز پہ نظر ڈالتے تھے تو انھیں یہ چیز تکلیف دیتی تھی کہ سب سے زیادہ رنز کی فہرست میں پاکستان کا نام نہ دکھائی دیتا تھا۔ شاید یہی وہ تحریک تھی کہ ڈھلتی عمر کی تھکن اور اغیار کے طعنوں کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور بالآخر کل وہ دن آ ہی گیا جب ٹیسٹ کرکٹ کی ایلیٹ کلاس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہو گیا۔

یہ بات خاصی پریشان کن ہے کہ پاکستان اور یونس خان کا ساتھ اب صرف پانچ اننگز تک ہی رہے گا۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی یونس خان کو وہ رتبہ نہیں دیا جس کے وہ حق دار تھے۔

نہ صرف یہ کہ انھوں نے پاکستان کے لیے ایک ورلڈ کپ جیتا بلکہ 2009 کے بعد شروع ہونے والے پاکستان کرکٹ کے مشکل ترین دور میں انھوں نے ایک بے گھر ٹیم کو سنبھالے رکھا۔ اپنے جونیئرز کی قیادت میں بھی اسی عزم سے کھیلے جیسے کبھی اپنے سینیئرز کے ہمراہ کھیلا کرتے تھے۔

اور اس سارے سفر کے بیچ وہ پاکستان کرکٹ کو یہ سکھلا گئے کہ کوئی تکنیک، کوئی کلاس اور کوئی سٹائل بھی ارادے سے بڑا نہیں ہوتا۔ یہ یونس کا عزم تھا کہ پاکستان کا نام بھی اس ایلیٹ کلب کا حصہ بنے جہاں برائن لارا، راہول ڈریوڈ، سچن ٹنڈولکر، رکی پونٹنگ اور سنگاکارا بستے ہیں۔ اس عزم کی جستجو میں نہ صرف وہ خود امر ہو گئے بلکہ پاکستان بھی سرخرو ہو گیا۔

جب کبھی دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں کا ذکر ہو گا تو ان میں یونس کا نام بھی آئے گا۔ اور تب ہم فخر سے بتائیں گے کہ یہ عظیم بلے باز یونس خان ایک پاکستانی تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں