کنگسٹن ٹیسٹ: پاکستان کے دونوں اوپنرز پویلین لوٹ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کنگسٹن میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے آخری دن کھانے کے وقفے پر پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 13 رنز بنا لیے ہیں۔

پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے مزید 19 رنز کی ضرورت ہے اور دوسری اننگز میں اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اظہر علی اور احمد شہزاد نے دوسری اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں سات رنز بنائے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کنگسٹن ٹیسٹ کے چوتھے روز کا کھیل تصاویر میں

کنگسٹن ٹیسٹ: یاسر شاہ کا جادو چل گیا، ویسٹ انڈین بیٹنگ مشکلات کا شکار

سات رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب اظہر علی ایک سکور پر بولڈ ہو گئے۔

پاکستان کے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی احمد شہزاد تھے جو چھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 152 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی اور اس نے پاکستان کو جیتنے کے لیے 32 رنز کا ہدف دیا۔

مہمان ٹیم کی جانب سے وشول سنگھ اور بشو نے پانچویں دن کے کھیل کا آغاز کیا۔

110 رنز کے مجموعی سکور پر ویسٹ انڈیز کی پانچویں وکٹ اس وقت گری جب وشول سنگھ صرف نو رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے چھ ، محمد عباس نے دو جب کہ محمد عامر اور وہاب ریاض نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

میچ کے چوتھے روز کے کھیل کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 93 رنز بنائے تھے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے سکور 286 رنز کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 407 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور اس طرح پاکستان کو 121 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔

آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی محمد عباس تھے جنھیں چیز نے ایل بی ڈبلیو کر دیا اور اس طرح مصباح الحق صرف ایک رنز کی کمی کے ساتھ اپنی سینچری مکمل نہ کر سکے اور 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انھوں نے محمد عباس کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں سکور میں 30 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

مصباح الحق نے اپنا 73 واں ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے اپنے کیریئر کے 5000 رنز مکمل کیے ہیں اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے ساتویں پاکستانی بلے باز ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں