’ننانوے ناٹ آؤٹ کا ناقابل فہم پلان‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصباح باآسانی سنچری کر سکتے تھے، لیکن وہ سنچری کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔

مصباح کو آخری میچ جیتے ہوئے چھ ماہ ہو چکے تھے۔ اس بیچ وہ دو براعظموں میں تین مختلف ٹیموں کے خلاف چھ میچ کھیلے لیکن جیت پاکستان سے روٹھی رہی۔ یہ وہی پاکستان تھا جو جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے ٹیسٹ چیمپئین ٹھہرا تھا۔

تین ماہ پہ محیط پے در پے شکستوں کے سلسلے نے نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کو چھٹے نمبر پہ لا پھینکا۔ مصباح کے پاس یہ آخری موقع تھا کہ جاتے جاتے چند فتوحات ٹیم کے کھاتے میں ڈال جائیں۔

’یونس نے ہمیشہ اپنے کھیل کی عزت کی‘

کنگسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح، سیریز میں برتری

جب 71 پہ ویسٹ انڈیز کے پانچ آوٹ ہو گئے تو مصباح کا پہلے بولنگ کا فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا۔ لگ ایسا رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز 200 بھی نہیں کر پائے گی۔

محمد عامر کم بیک کے بعد سے اب تک اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کر رہے تھے۔ وہاب ریاض اندھا دھند شارٹ لینتھ پھینک رہے تھے۔ عباس وہی کر رہے تھے جو کبھی راحت علی کیا کرتے تھے۔

لیکن ڈاورچ اور روسٹن چیز نے آؤٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ لنچ کے بعد پہلے ہی اوور میں کامیابی حاصل کرنے والے عامر بھی دن کے آخری سیشن تک تابڑ توڑ حملے کر کر تھک چکے تھے۔

یاسر کا جادو بھی نہیں چل رہا تھا۔ جب بغیر کوئی وکٹ حاصل کیے 43 اوورز گزر گئے تو مصباح کا ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ ایک صریح غلطی دکھائی دینے لگا۔

ڈاورچ اور چیز نے چھٹی وکٹ کے لیے 118 رنز کی پارٹنرشپ بنا ڈالی۔ صاف لگ رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز بغیر مزید نقصان کے، پورا دن کھیل جائے گا۔

لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

وہاب ریاض مڈ آف پہ فیلڈنگ کر رہے تھے۔ روسٹن چیز نے بہت محفوظ شاٹ کھیلا۔ اگرچہ بال ہوا میں تھا لیکن یہ کسی بھی فیلڈر کی پہنچ سے دور تھا لیکن وہاب ریاض نے بال کے نیچے دوڑنا شروع کیا اور چند لمحوں بعد وہ کیچ ہوا جو کئی دہائیوں تک یہ یاد دلاتا رہے گا کہ ٹیسٹ کرکٹ اور انسانی زندگی کتنے ملتے جلتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بالآخر پاکستان کو بریک تھرو مل ہی گیا۔ وہ کیچ اتنا پرفیکٹ تھا کہ شین ڈاورچ ابھی تک خود کو اس حقیقت کا یقین بھی نہ دلا پائے تھے کہ یاسر شاہ کی اگلی گیند سٹمپس سے ٹکرا گئی اور اچانک میچ کا پانسہ پاکستان کی جانب پلٹ گیا۔

تاہم اس کے بعد بارش، بشو اور بادل میچ پہ چھا گئے۔ بار بار پاکستانی بولنگ کا تسلسل ٹوٹا۔ ان دو گیندوں کے سوا یاسر کا جادو بھی نہ چل سکا۔ یہاں تک کہ جس وکٹ پہ ویسٹ انڈیز پہلے ہی دن 200 سے کم پہ آؤٹ ہوتی نظر آ رہی تھی، وہاں یہ اننگز میچ کے تیسرے روز جا کر کہیں ختم ہوئی۔ عامر نے اپنے کریئر کے بہترین فیگرز حاصل کیے لیکن تب تک میچ ڈرا کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا۔

مگر مصباح کو یہ میچ جیتنا تھا اور پاکستان کو یہ میچ اگر کوئی جتوا سکتا تھا تو وہ یاسر شاہ ہی تھے۔ باقی بولنگ اٹیک میں سے صرف عامر ہی میچ وننگ فارم میں تھے لیکن تب تک وہ چھ وکٹوں کے لیے 26 اوورز پھینک چکے تھے۔

جس رفتار سے سیبائنا پارک کی وکٹ سست ہو رہی تھی، یہ واضح تھا کہ چوتھے دن کے آخری سیشن سے اس پہ سپنرز کا راج شروع ہو جائے گا اور اگر پاکستان کو آخری اننگز میں 150 رنز بھی درکار ہوئے تو یہ میچ بچانا مشکل ہو جائے گا۔

میچ بچانے کا ایک ہی راستہ تھا کہ پاکستان اپنی اننگز کو کھینچ تان کر چوتھے دن کی چائے تک لے جائے اور اس کے بعد معاملہ قسمت اور یاسر شاہ پہ چھوڑ دے۔

لیکن یہ بہت مشکل کام تھا۔ اس بیٹنگ لائن میں سے اگر کوئی پارٹنرشپ ایسا کر سکتی تھی تو وہ مصباح اور یونس ہی ہو سکتے تھے مگر اس بار دونوں کو پارٹنرشپ بنانے کا موقع ہی نہ مل سکا اور جب مصباح کریز پہ آئے تو بابر بھی پویلین لوٹ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، مصباح کو آخری وکٹ تک کریز پہ رہنا تھا۔ سو مصباح نے ایک اینڈ کو سنبھالا اور دوسری جانب جو بھی آیا، اس کے ساتھ حسب توفیق پارٹنرشپ لگائی۔ یہاں تک کہ جب آخری بیٹسمین عباس بیٹنگ کے لیے آئے، تب تک مصباح کا انفرادی سکور68 ہو چکا تھا۔

پاکستان کی برتری 87 رنز کی ہو چکی تھی۔ مصباح کو چاہیے تھا کہ وہ جلد از جلد اپنا گیئر بدلتے اور نہ صرف پاکستان کی لیڈ بڑھاتے بلکہ ساتھ ہی اپنی سینچری بھی مکمل کر لیتے۔ لیکن مصباح سینچری کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ صرف یہ میچ جیتنا چاہتے تھے۔ وہ اس وکٹ کو مزید سست ہونے کا موقع دینا چاہتے تھے اس لیے وہ مسلسل تین سیشنز اور 223 گیندیں کھیل کر بھی سینچری کیے بغیر ناٹ آؤٹ واپس آئے۔

اور پھر یاسر شاہ کا جادو چل گیا۔

بہت پہلے رمیز راجہ نے مصباح کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے پلان اکثر عجیب و غریب اور سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مصباح کے لیے ہمیشہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔

ننانوے ناٹ آوٹ بھی مصباح کا ایسا ہی ایک ناقابل فہم پلان تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں