کرکٹ میں انڈیا کی مالیاتی اجارہ داری کو جھٹکا

آئی سی سی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی سی سی آئی نے 57 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا جو اسے 'بگ تھری' کے تحت مل رہا تھا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فُل ممبران نے ’بگ تھری‘ اور انڈیا کے خلاف ووٹ دے کر نئے مالیاتی ماڈل اور آئنی ترامیم متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو دبئی میں آئی سی سی کے اجلاس میں آئی سی سی کے نئے آئین کے حق میں آٹھ ممالک نے ووٹ دیا ہے جبکہ انڈیا اور سری لنکا نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسی طرح آئی سی سی کے نئے مالیاتی نظام کے حق میں بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے نو ممالک نے ووٹ دیا ہے تاہم انڈیا نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اگرچہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نئے آئین کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے تاہم اس کی باضابطہ منظوری جون 2017 میں سالانہ اجلاس میں دی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے ’بگ تھری‘ کے خاتمے کو آئی سی سی اور کرکٹ کی دنیا کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی اکثریت کو احساس ہوگیا تھا کہ ایسے نہیں ہونا چاہیے اور اسی وجہ سے ان ممالک نے اس کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق بدھ کو جس مالیاتی ماڈل کی منظور دی گئی اس میں بی سی سی آئی کا حصہ لگ بھگ 29 کروڑ ہے جبکہ منگل کو بی سی سی آئی کے عہدیداران سیکریٹری امیتابھ چودھری اور خزانچی انیرتھ چودھری نے آئی سی سی کی سیٹلمنٹ کی تقریباً 40 کروڑ ڈالر کی پیش کش مسترد کر دی تھی۔

بی سی سی آئی نے 57 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا جو اسے 'بگ تھری' کے تحت مل رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بگ تھری کرکٹ کے لیے صحیح نہیں یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا ہے‘

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے دبئی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کا سالانہ اجلاس اب جون میں ہوگا اور انھیں اب آئی سی سی کے نئے آئین کی منظوری میں مزید کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔

شہریارخان کا کہنا تھا کہ 'سب کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ بگ تھری کرکٹ کے لیے صحیح نہیں یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ نے بھی جو بگ تھری میں شامل تھے اب اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔'

شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بگ تھری کے خاتمے کے سلسلے میں اصولی موقف اختیار کررکھا تھا کہ اس سے کرکٹ صحیح سمت میں نہیں جاسکتی۔

شہریارخان نے کہا کہ انھوں نے آئی سی سی کے اجلاس میں بی سی سی آئی کے وفد پر یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بہت جلد بی سی سی آئی کو قانونی نوٹس بھیج رہا ہے کیونکہ بی سی سی آئی نے پاکستان کے ساتھ نہ کھیل کر اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ قانونی نوٹس کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور اسے بہت جلد بی سی سی آئی کو بھیج دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں