25 سالہ انگلش کرکٹر ظفر انصاری نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

ظفر انصاری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر اور سرے کاؤنٹی کی جانب سے کھیلنے والے 25 سالہ پاکستانی نژاد ظفر انصاری نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'اب میں اپنی دوسری خواہشات کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔'

ظفر انصاری نے انڈیا کے خلاف دو ٹیسٹ میچ کھیلنے سے پہلے اکتوبر میں بنگہ دیش کے خلاف اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا تھا۔

انڈیا کو ہرانے پر حیرانی نہیں ہو گی

پاکستانی نژاد ظفر انصاری انگلش کرکٹ سکواڈ میں شامل

‘دوبارہ موقع ملنے پر خوش ہوں’

بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ظفر انصاری فرسٹ کلاس کرکٹ کے 71 میچوں میں 128 وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔

ظفر انصاری کا کہنا تھا 'سات سالوں تک پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد میں نے اپنے کرکٹ کیریئر کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سرے کاؤنٹي کے آل راؤنڈر ظفر انصاری

انہوں نے مزید کہا 'ریٹائر ہونے کی ٹائمنگ سے لوگوں کو حیرت ہو سکتی ہے لیکن میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ کرکٹ میری زندگی کا صرف ایک حصہ ہے اور میری دوسری خواہشیں بھی ہیں جنھیں میں مکمل کرنا چاہتا ہوں۔'

ظفر انصاری نے کیمبرج یونیورسٹی سے سیاسیات، فلسفہ اور سوشیالوجی کا مطالعہ کیا اور رائل ہالو وے یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔

انھوں نے سنہ 2015 میں آئر لینڈ کے خلاف اپنے ایک روزہ کریئر کا آغاز کیا جس کے بعد انھیں سنہ 2016 میں بنگلہ دیش اور انڈیا کے دورے میں ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔

سرے کاؤنٹی کے کرکٹ ڈائریکٹر ایلکس سٹوورٹ نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ 'ظفر انصاری کا ابتدائی عمر میں ریٹائر ہونا حیرت کی بات نہیں ہے۔'

سٹوورٹ کا مزید کہنا تھا کہ ظفر انصاری نے انھیں متعدد مواقعوں پر بتایا تھا کہ کرکٹ ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن پوری زندگی نہیں۔

سٹوورٹ کے مطابق ظفر انصاری بہت محنتی انسان ہیں، انھوں نے سرے اور انگلینڈ کے لیے کرکٹ کھیلی اور اب وہ ایک مختلف کریئر شروع کرنا چاہتے ہیں۔

انگلینڈ کے کرکٹر معین علی کا ظفر انصاری کے فیصلے کے بارے میں کہنا تھا 'یہ ایک دلیرانہ اور مشکل فیصلہ تھا جس کے بارے میں انھوں نے اپنے خاندان اور دوستوں سے بات چیت کی ہو گی، انھوں نے اس فیصلے کے بارے میں اچھی طرح سوچا ہو گا اور اب جب انھوں نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے تو میں ان کے اس فیصلے کا مکمل احترام کرتا ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں