معروف سوئس کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو گئے ہیں

نیپال تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اولی سٹیک

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اولی سٹیک کی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو بغیر آکسیجن سر کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

40 سالہ اولی سٹیک اس سے پہلے 2012 میں بھی ماؤنٹ ایورسٹ بغیر آکسیجن کے سر کر چکے ہیں۔

'سوئس مشین' کے نام سے مشہور اولی سٹیک ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کرنے والے تھے اور اس کے لیے پہلے آب و ہوا کے مطابق خود کو ڈھال رہے تھے تاکہ وہ بغیر آکسیجن اپنا سفر کر سکیں جس کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔

* ہمالیہ سر کر لیا

اولی سٹیک اپنے کریئر میں کئی اعزازات جیت چکے ہیں اور تیز رفتاری سے چوٹیوں کو عبور کرنا ان کا خاصہ تھا۔

ان کی نعش کو پہاڑ سے نکال لیا گیا ہے جسے بعد میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچا دیا گیا ہے۔

بدھ کو سٹیک نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا تھا: 'تیز دن تھا جہاں بیس کیمپ سے اوپر 7000 میٹر کی بلندی تک گیا اور واپس آ گیا۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ 'کوہ پیمائی کرنا پہاڑوں کی آب و ہوا کا عادی ہونے کے لیے سب سے موثر طریقہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption اولی سٹیک کا فیس بک پیچ

2012 میں ماؤنٹ ایورسٹ عبور کرنے کے علاوہ اولی سٹیک نے 2015 میں 82 الپائن چوٹیاں 62 دنوں میں عبور کیں جن کی کم سے کم اونچائی بھی چار ہزار میٹر تک کی تھی۔

اولی سٹیک ماؤنٹ ایورسٹ عبور کرنے چار سال بعد آئے تھے۔ آخری دفعہ ان کی نیپالی شرپاؤں سے جھڑپ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی کوشش ترک کر کے لوٹ گئے تھے۔

اولی سٹیک کو ان کے ساتھی کوہ پیماؤں نے خراج تحسین پیش کیا۔ برطانوی کوہ پیما کینٹن کول نے کہا کہ اولی سٹیک 'حقیقی رول ماڈل ہیں جن کے کام سے ہمیں تحریک ملی اور انھوں نے ہمیں راستہ دکھایا کہ پہاڑوں پر کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔'

برطانیہ کی کوہ پیمائی کی کونسل نے اولی سٹیک کو 'لیجنڈ' قرار دیا اور کہا کہ وہ بہترین کوہ پیما ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین انسان بھی تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں