بارباڈوس: ویسٹ انڈیز کو پاکستانی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 41 رنز درکار

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر اپنی دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 40 رنز بنا لیے۔

بارباڈوس میں منگل کو جب کھیل ختم ہوا تو ویسٹ انڈیز کی جانب سے کریگ بریتھویٹ اور شیمرون ہیٹمائر کریز پر موجود تھے اور میزبان ٹیم کو پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 41 رنز درکار تھے جبکہ اس کی نو وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کیا مصباح 65 سالہ ریکارڈ توڑ پائیں گے؟

اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 393 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

تیسرے دن کے کھیل کی خاص بات اظہر علی کی سنچری اور مصباح الحق کا ایک مرتبہ پھر سنچری سے صرف ایک قدم دور رہ جانا تھا۔

مصباح الحق نے دو سو گیندوں پر 99 رن بنائے اور ہولڈر کی گیند پر آوٹ ہوگئے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں تیسرا موقع تھا کہ مصباح الحق کی اننگز کا خاتمہ 99 رنز پر ہوا ہے۔ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز کے اختتام پر مصباح الحق 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہ گئے تھے۔

منگل کو اوپنر اظہر علی اور کپتان مصباح الحق نے 172 رنز سے پہلی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تو اظہر علی سنچری مکمل کرنے کے بعد 105 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔

ان کے بعد مصباح کے علاوہ پاکستان کے دیگر مڈل آرڈر بلے باز بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور سرفراز احمد 9 اور اسد شفیق 15 رنز بنا سکے۔

تاہم لوئر آرڈر میں یاسر شاہ نے 24، شاداب خان نے 16 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کو 81 رنز کی برتری دلوا دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی اوپنرز نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 155 رنز کت شراکت کی۔

پاکستان کی جانب سے لوئر آرڈر میں شاداب خان نے 16، محمد عامر نے 10 جبکہ یاسر شاہ نے 24 رنز بنائے۔

اس ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں روسٹن چیز کی سنچری کی بدولت 312 رنز بنائے تھے۔

اس میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور فاسٹ بولر وہاب ریاض کی جگہ نوجوان لیگ سپنر شاداب خان کو ان کے کریئر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا ہے۔

یہ ٹیسٹ سیریز پاکستان کے کپتان مصباح الحق اور یونس خان کے کیرئیر کی آخری سیریز ہے۔

پاکستان کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور اگر پاکستانی ٹیم اس میچ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو تاریخ میں پہلی دفعہ وہ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر کسی ٹیسٹ سیریز میں فتح یاب ہو گی۔

اسی بارے میں