'اظہر کا بلا کبھی خاموش نہیں رہے گا'

اظہر علی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اس سے قبل اظہر علی 12 سنچریاں لگا چکے ہیں جن میں ایک ٹرپل سنچری بھی شامل ہے

کرکٹ سٹارڈم بھی عجیب چیز ہے۔ اس کا کوئی معیار یا پیمانہ نہیں ہے۔ بس کسی کے 'بھاگ' جاگتے ہیں اور اس کے سر پہ ہما بیٹھ جاتا ہے۔ اور کوئی سالہا سال کی ریاضت کاٹ کر بھی اس سے محروم رہتا ہے۔

یونس خان کی مثال لیجے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں جو دس ہزار ٹیسٹ رنز کا اعزاز حاصل کر پائے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگز میں اوسط دیکھی جائے تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بیٹسمین ہیں۔ وہ دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں جو گیارہ ممالک میں سینچری سکور کر چکے ہیں۔

٭ اظہر علی کا کرارا جواب

٭ ’یونس نے ہمیشہ اپنے کھیل کی عزت کی‘

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نوجوان کرکٹرز کے رول ماڈل یونس خان ہوتے اور پاکستان کے سکولوں کے نصاب میں اسی طرح یونس پہ مضامین شامل کیے جاتے جیسے بھارت کے بچوں کو تندولکر کے بارے پڑھایا جاتا ہے لیکن یہ تو اس ہما کی مرضی کہ جسے یونس کے سر بیٹھنا ہی نہیں ہے۔

یہی مثال اظہر علی کی بھی ہے۔ جس رفتار سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں، عین ممکن ہے کچھ سال بعد وہ بھی اسی فہرست کا حصہ بن جائیں جہاں یونس کھڑے ہیں۔ لیکن یہ تقریباً طے ہے کہ اظہر بھی کبھی سٹار نہیں بن پائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اظہر علی نے ابھی تک ٹیسٹ میچوں میں 25 نصف سنچری بھی سکور کر رکھی ہے

کیونکہ بھئی یہ تو ہما ہے، جس کے سر بیٹھنا ہو ایک ہی سینچری کے بعد بیٹھ جاتا ہے۔ اور جس کے 'نصیب' میں نہ ہو وہ چاہے سنچریوں پہ سنچریاں بناتا رہے، محروم تمنا ہی رہتا ہے۔

پچھلے ایک سال میں اظہر علی نے اپنے کریئر کا مشکل ترین وقت گزارا ہے۔ شاید انھیں اس منجدھار سے نہ گزرنا پڑتا اگر وہ ون ڈے کے کپتان نہ بنائے جاتے۔ کیونکہ جس دن انھیں کپتان بنایا گیا تھا، ان کا کڑا وقت شروع ہو گیا تھا۔

خدا خدا کر کے تین ماہ پہلے وہ کڑا وقت ختم ہوا اور اظہر کی جان بخشی ہوئی۔ لیکن اس سارے عرصے میں بھی اظہر کا بلا خاموش نہیں رہا۔

جس وقت قوم کے بھرپور اصرار پہ اظہر کپتانی سے دستبردار ہوئے، پی ایس ایل شروع ہونے کو تھی اور اظہر لاہور قلندرز کا حصہ تھے۔ باوجود اس کے کہ گذشتہ سیزن میں وہ لاہور کے کپتان تھے، یہ سارا سیزن انھوں نے بینچ پہ بیٹھ کے گزارا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption یونس خان 116 ٹیسٹ میچوں میں 34 سنچری اور 33 نصف سنچری سکور کر چکے ہیں

اس کے بعد جب دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے ون ڈے سکواڈ کا اعلان ہوا تو اظہر علی کو ڈراپ کر دیا گیا۔ گویا صرف دو ٹیموں کی قیادت ہی ہاتھ سے نہ گئی، ان ٹیموں میں جگہ تک نہ بن پائی۔ قسمت بھی ایسی بےتکلفی کسی کسی کو ہی دکھاتی ہے۔

ایسی صورت حال میں عموما انسان دل شکستہ ہو جاتا ہے۔ ترک دنیا کے خیالات سر اٹھانے لگتے ہیں اور کچھ نہ بھی ہو، کم از کم ایک آدھ گرما گرم پریس کانفرنس اور دو چار دھماکے دار بیان تو کہیں نہیں گئے۔

لیکن اظہر کو جب بھی موقع ملا، انھوں نے جواب اپنے بلے سے ہی دیا۔ صرف پچھلے ایک سال کی ہی بات کیجیے تو اس بیچ اظہر ایک ٹرپل سینچری، ایک ڈبل سینچری اور تین سینچریاں بنا چکے ہیں۔

بھلے پورا پاکستان ان کے خلاف ہم آواز ہو کر ان کی کپتانی پہ تنقید کرتا رہا اور ان کو کپتانی ہی کیا، ٹیم سے بھی نکالنے کے مطالبے ہوتے رہے، اظہر کا جواب اظہر کے بلے سے ہی سامنے آیا۔

کل کی سینچری بھی اظہر کا ایسا ہی ایک جواب تھا۔

شاید اظہر علی کبھی سٹار نہ بن پائیں لیکن یہ طے ہے کہ ان کا بلا کبھی خاموش نہیں رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں