سپاٹ فکسنگ سکینڈل: خالد لطیف کی ٹریبونل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

خالد لطیف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت خالد لطیف کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے بنائے گئے ٹریبونل کے خلاف درخواست خارج کر چکی ہے

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹر خالد لطیف کی درخواست مسترد کردی ہے جس میں انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ ٹریبونل خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور شرجیل خان کے خلاف سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی سماعت کر رہا ہے۔

٭ خالد لطیف کا اینٹی کرپشن یونٹ پر عدم اعتماد

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے خالد لطیف کی نظرثانی اپیل کے جواب میں کہا کہ ٹریبونل کی کارروائی روکی نہیں جا سکتی البتہ اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لیے 13 جون کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹر شاہ زیب حسن کے خلاف سپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں موجود تمام ثبوت ان کے وکیل کے حوالے کردیے ہیں۔

جمعرات کو انٹی کرپشن ٹریبونل کی سماعت میں شاہ زیب حسن پیش نہیں ہوئے اور سماعت کے موقع پر ٹریبونل نے شاہ زیب حسن کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ 18 مئی کو اپنا جواب داخل کردیں۔

پاکستان سپر لیگ کے موقع پر سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں اب تک ایک کرکٹر محمد عرفان کو چھ ماہ کی پابندی کی سزا دی جا چکی ہے جبکہ ایک اور کرکٹر ناصر جمشید انگلینڈ میں موجود ہونے کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کے رابطے میں نہیں آ سکے ہیں۔

ناصر جمشید کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ وہ اس سکینڈل کے اہم کردار ہیں اور انھوں نے ہی دوسرے کرکٹرز کو سپاٹ فکسنگ کی ترغیب دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں