’اگر تیسرے روز کی چائے کا انتظار کیا ہوتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان نے اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ سات وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ آخری ٹیسٹ دس سے 14 مئی تک کھیلا جائے گا۔

جس وقت مصباح الحق ننانوے رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، پہلی اننگز کی لیڈ صرف چار رنز تھی۔ لیکن پانچ وکٹیں باقی تھیں۔

تیسرے دن کا آغاز بہت دھیما تھا۔ دن کے پہلے چھبیس اوورز میں صرف 54 رنز بنے۔ لیکن پاکستان نے کوئی وکٹ نہیں گنوائی۔ اظہر اور مصباح ڈٹے رہے۔ لگ رہا تھا کہ پاکستان ساڑھے چار سو رنز بنا لے گا۔

وکٹ جس رفتار سے بگڑ رہی تھی، صاف تھا کہ اگر پاکستان ڈیڑھ سو کی لیڈ بھی لے گیا تو ویسٹ انڈیز کو جوئے شیر لانا ہو گی۔

لیکن پھر لنچ آ گیا! اور اس کے بعد پاکستان نے میچ چھوڑ دیا۔

اظہر سینچری بناتے ہی ہتھیار ڈال گئے۔ مصباح ایک ناقابل فہم ریویو کے بارے سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک آؤٹ ہو گئے۔

لیکن اس کے باوجود میچ پاکستان کی جانب جھکا ہوا تھا۔ گو پہلی اننگز کی برتری صرف چار رنز ہی تھی لیکن پاکستان کے دو اچھے بیٹسمین ابھی باقی تھے۔ وکٹ میں ابھی کوئی جادو نہیں جاگا تھا۔ اسد شفیق رک جاتے۔ یا سرفراز ہی ذرا تکلف کر لیتے تو پاکستان کم از کم سوا سو کی لیڈ حاصل کر سکتا تھا۔

اس وکٹ پہ، اس میچ میں رہنے کے لیے، کم از کم سوا سو کی لیڈ چاہیے تھی۔

لیکن اگلے بیس منٹ میں پاکستان میچ سے باہر ہو گیا۔ نجانے آندھی چلی کہ بادل امڈ آئے۔ پاکستان نے جلدی جلدی دو وکٹیں پھینک دیں۔ ایک بار پھر سرفراز چل دیے۔ ایک بار پھر اسد شفیق رخصت ہوئے۔

جب تیسرے روز کی چائے کا وقفہ ہوا، پاکستان کی برتری 17 رنز کی تھی اور ہاتھ میں وکٹیں صرف تین تھیں۔ چائے سے پلٹتے ہی وہ تینوں بھی گر گئیں۔

ویسٹ انڈیز کو ہدف مقرر کرنے کے لئے صرف اکیاسی رنز کی لیڈ کو مٹانا تھا۔

اس کے بعد اگلے دن کے ڈھائی سیشنز شے ہوپ نے اپنی زندگی کی بہترین کرکٹ کھیلی۔ یاسر شاہ کی شاندار بولنگ کا نہایت خوبصورتی سے مقابلہ کیا۔ سینچری نہ کر پائے، لیکن جب نوے رنز بنا کر وہ کریز سے لوٹے، تب تک میچ کا پانسہ پلٹ چکا تھا۔

یاسر شاہ نے کمال بولنگ کی۔ عامر کا ڈسپلن حیران کن تھا۔ عباس نے اچھی لائنز کو فالو کیا۔ لیکن تب تک ’ہوپ‘ نے پاکستان کی امیدوں کو مرجھا دیا تھا۔

پانچویں دن کے پہلے سیشن میں تقریباً چار اوورز کا کھیل باقی تھا۔ گیبریل نے آف سٹمپ پہ ایک تیز فل لینتھ ڈلیوری پھینکی۔ احمد شہزاد نے ڈرائیو کرنے کی کوشش کی۔ گیند بلے کے بیرونی کنارے سے لگ کر گلی کی جانب ہوا میں اڑی۔

لیکن احمد شہزاد بچ گئے۔ احمد نے اپنا بلا زمین پہ رکھا، ایلبو گارڈ اتارا۔ اور بازو کو مسلنا شروع کر دیا۔ جیسے کسی تیز رفتار باونسر نے ان کے ایلبو گارڈ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہو۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ لمحے اپنی آستین کو درست کرنے میں صرف کیے۔ پھر آرام سے گارڈ پہنا۔ بلا تھاما۔ اور نہایت سست روی سے اگلی گیند کے لئے تیار ہوئے۔

188 رنز کے تعاقب میں پاکستان کے پانچ کھلاڑی صرف 30 رنز پر آوٹ ہو چکے تھے۔ احمد شہزاد لنچ کا انتظار کر رہے تھے۔

لیکن اگر سرفراز نے تیسرے روز چائے کا انتظار کیا ہوتا تو انہیں پانچویں دن لنچ کا انتظار نہ کرنا پڑتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں