پارٹنرز کی تبدیلی نے بہت کچھ سکھایا: اعصام الحق

ٹینس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے ٹینس کھلاڑی اعصام الحق

پاکستان کے ٹینس کھلاڑی اعصام الحق کو امید ہے کہ اس سال وہ بین الاقوامی مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

اعصام الحق نے گزشتہ دنوں بارسلونا اوپن میں ڈبلز ٹائٹل جیتا جو اس سال ان کا دوسرا ٹائٹل ہے۔ اس سے قبل جنوری میں انھوں نے آکلینڈ اوپن میں ڈبلز ٹائٹل جیتا تھا۔ اب وہ اتوار سے شروع ہونے والے میڈرڈ اوپن میں حصہ لینے والے ہیں۔

اعصام الحق کی بارسلونا اوپن میں جیت

اعصام اور میٹکوسکی اے ایس بی کلاسک کے فاتح

اعصام الحق نے میڈرڈ سے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پچھلے دو تین سال ان کے لیے بہت سخت رہے ۔ اس دوران انہیں متعدد اہم مقابلوں میں شکست سے بھی دوچار ہونا پڑا اور ان کی عالمی رینکنگ بھی پچاس سے نیچے چلی گئی تھی لیکن انہوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

اعصام الحق نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹل جیت سکتے ہیں اور اسی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے وہ ٹینس جاری رکھے ہوئے ہیں اور سخت محنت کر رہے ہیں۔

اعصام الحق نے روہن بوپنا کے بعد متعدد پارٹنرز تبدیل کرنے کے بارے میں بتایا کہ اس کی وجہ ان کی رینکنگ کا نیچے گرجانا تھا کیونکہ اس صورت میں بڑے کھلاڑی آپ کے ساتھ نہیں کھیلتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے پارٹنرز تبدیل کرنے پڑے اور ان کی کارکردگی میں مستقل مزاجی نہ آسکی اور انہیں مشکلات کا سامنا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سال جنوری میں اعصام الحق نے آکلینڈ اوپن میں سال کا پہلا ٹورنامنٹ جیتا تھا

اعصام الحق نے کہا کہ اس چیز نے انہیں بہت کچھ سکھایا، انہیں اپنے کھیل میں بہتری لانے کا موقع ملا اور اب وہ خود کو پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ پراعتماد محسوس کر رہے ہیں۔

اعصام الحق نے کہا کہ ٹینس بہت زیادہ سخت کھیل ہے جس میں ٹیم گیم کی طرح آپ کا کوئی متبادل نہیں ہے کہ اگر آپ کی کارکردگی اچھی نہیں ہے تو وہ آپ کی جگہ لے سکے۔

'انفرادی کھیل میں آپ کو ہی ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنا پڑتا ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کھلاڑی ہر وقت کامیابی حاصل کرتا رہے'۔

انھوں نے کہا کہ اچھے برے دن بڑے بڑے کھلاڑیوں پر آتے ہیں جیسا کہ راجر فیڈرر اور رافیل نڈال کو بھی دو تین سال تک سخت صورتحال کا سامنا رہا اور لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا تھا کہ یہ دونوں اب دوبارہ نہیں جیت پائیں گے لیکن ان دونوں نے دوبارہ کامیابیاں حاصل کرکے ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں