اینٹی کرپشن کوڈ کی ممکنہ خلاف ورزی پر محمد نواز کو نوٹس جاری

محمد نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی سی بی نے محمد نواز کی جانب سے اینٹی کرپشن کوڈ کی ممکنہ خلاف ورزی کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کرکٹ سے کرپشن کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کے سلسلے میں اینٹی کرپشن کوڈ کی ممکنہ خلاف ورزی پر نوجوان کرکٹر محمد نواز کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

پیر کی شام پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بورڈ کے سکیورٹی اور نگرانی کے شعبے نے محمد نواز کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 4.3 کے تحت نوٹس آف ڈیمانڈ بھیجا ہے۔

سپاٹ فکسنگ: ’ملوث کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائیں‘

سپاٹ فکسنگ: ’فیصلہ آنے تک کھیلنے کی اجازت دی جائے‘

خالد لطیف کی ٹریبونل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

اینٹی کرپشن کوڈ کی اس شق کا تعلق مشکوک فرد یا افراد کی جانب سے کی گئی پیشکش کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو تاخیر سے مطلع کرنے سے ہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد نواز کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس شق کی خلاف ورزی کب کی تھی لیکن اطلاعات کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے گدشتہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران محمد نواز سے مبینہ طور پر مشکوک افراد نے رابطہ کیا تھا جس کے بارے میں محمد نواز نے تاخیر سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کیا تھا۔

23 سالہ محمد نواز تین ٹیسٹ، نو ون ڈے اور پانچ ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور وہ پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ان دنوں سپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات میں مصروف ہے جس میں فاسٹ بولر محمد عرفان کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر چار کرکٹرز ناصر جمشید۔، شرجیل خان، خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کے خلاف تحقیقاتی عمل جاری ہے۔

ان کے خلاف الزامات کی سماعت ایک خصوصی اینٹی کرپشن ٹربیونل کر رہا ہے۔

ناصر جمشید کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے عالمی کرکٹ میں میچ اور سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں جاری تحقیقات کے تناظر میں بھی حراست میں لیا تھا تاہم انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں