ایچ آئی وی کے مریض اب نارمل زندگی جی سکتے ہیں

جمی آئزکس تصویر کے کاپی رائٹ JIMMY ISAACS
Image caption ایچ آئی وی کے مریض جمی آئزکس کو امید ہے کہ وہ ادویات کی مدد سے طویل اور تقریباً نارمل زندگی گزار سکیں گے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایچ آئی وی کی ادویات استعمال کرنے والے نوجوان مریض طریقۂ علاج میں بہتری کی وجہ سے اب تقریباً نارمل زندگی جی سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق وہ 21 سالہ نوجوان جنھوں نے 2010 میں علاج شروع کیا تھا، اب وہ 1996 میں علاج شروع کرنے والے مریضوں کے مقابلے پر دس برس زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جلد علاج طویل اور صحت مند زندگی کے لیے بےحد ضروری ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق اب بھی بہت سے مریض ایسے ہیں جنھیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے جسم میں ایڈز کا وائرس موجود ہے۔

تحقیق کے مصنفین نے، جن کا تعلق یونیورسٹی آف برسٹل سے ہے، کہا کہ ایچ آئی وی کے علاج کی غیرمعمولی کامیابی کی وجہ نئی ادویات ہیں جن کے مضر اثرات کم ہیں اور وہ وائرس کو جسم میں بڑھنے سے زیادہ موثر طریقے سے روکتی ہیں۔

اس کے علاوہ وائرس ان ادویات کے خلاف آسانی سے مدافعت بھی پیدا نہیں کر سکتا۔

اس پیش رفت کو گذشتہ 40 برسوں کی سب سے بڑی طبی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

رائل کالج آف جی پیز کے پروفیسر سٹوکس لیمپرڈ نے کہا: 'یہ زبردست طبی کامیابی ہے کہ ایک زمانے میں وہ بیماری جو تقریباً ناقابلِ علاج سمجھی جاتی تھی، اب اسے قابو میں لایا جا سکتا ہے اور اس کے مریض اب کہیں زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں