پاکستانی کرکٹر یونس خان افغان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ پر ’رضامند‘

عاطف مشال تصویر کے کاپی رائٹ ACB

افغانستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ عاطف مشال نے کہا ہے کہ افعان ٹیم کے بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے پاکستانی کرکٹر یونس خان سے بات چیت جاری ہے۔

یونس خان نے حال ہی میں عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ دورے پر ہیں اور اپنے کریئیر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے خصوصی گفتگو کے دوران عاطف مشال کا کہنا تھا کہ ’ابھی ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اچھے کھلاڑیوں کی خدمات اپنی ٹیم کی تربیت کے لیے حاصل کریں۔‘

عاطف مشال کا کہنا تھا کہ یونس خان نے اس ذمہ داری کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

اگر افغانستان کرکٹ بورڈ اور یونیس خان کے درمیان معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ تیسرے پاکستانی کرکٹر ہوں گے جو بطور بیٹنگ کوچ افغانستان میں خدمات سرانجام دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل انضمام الحق اور کبیر خان یہ فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

عاطف مشال کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طور پر تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ’ہم اپنے ممکنات اور ان کی خواہشات کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں مبصرین اسے ایک اچھی خبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس سے کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

افغانستان میں کرکٹ پاکستان میں برس ہا برس سے بسنے والے افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے پہنچی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اچانک انضمام الحق کو واپس بلانے پر بھی افغانستان قدرے خوش نہیں ہے اور امید کر رہا ہے کہ یونس خان کے ساتھ میں ایسا نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغان کرکٹ حکام پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں کرکٹ سیریز کے خواہش مند بھی ہیں۔

اس حوالے سے عاطف مشال نے اعتراف کیا کہ ان کے لیے موجودہ حالات میں پاکستان میں کھیلنا ممکن نہیں ہوگا۔ ’تعلقات ایسے ہیں کہ اگر کسی تیسرے ملک میں کھیلیں تو بہتر ہوگا۔ دونوں بورڈز کی سطح پر بات چیت جاری ہے۔‘

عاطف کا اس سے آگے بڑھ کر مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہوگی کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم افغانستان آ کر کھیلے۔

’کرکٹ ڈپلومیسی سے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان آئس بریکر بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے تین چار کھلاڑی پہلے ہی افغان سپر لیگ (شپگیزہ) میں کھیل رہے ہیں۔‘

پاکستان سپر لیگ میں افغان کھلاڑیوں کے نہ آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اور نبی جیسے کھلاڑی اس وقت زمبابوے میں قومی ترجیح کی بنیاد پر کھیل رہے تھے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ کھیل کو کھیل سمجھتے ہیں اور اس میں کسی سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ’اگر پاکستان کی جانب سے ہو تو ہو ہماری جانب سے ایسا نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس آنے کو تیار نہیں تو افغانستان میں کیسے کھیلی جاسکتی ہے، عاطف مشال نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کی صورتحال قدرے مشترک ہے۔

ان کا کہنا تھا : ’اگر راولپنڈی میں کرکٹ کھیلی جاسکتی ہے تو ہم کابل میں بھی تحفظ دے سکتے ہیں۔ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یقین دلاتے ہیں کہ اگر پاکستان کی ٹیم افغانستان آئے گی تو اسے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان فرسٹ کلاس سٹیٹس کے بعد اب بین الاقوامی کرکٹ کے لیے کوشش کر رہا ہے اور جلد آئی سی سی کو اپنی درخواست دے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا میں دس روز کی تربیت کے بعد اب تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچوں کی سریز کھیلنے ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی ہے۔

اس کے بعد لارڈز میں اس موسم گرما افغانستان الیون کا ورلڈ الیون کے خلاف بھی ایک اہم میچ ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں