الوداع مصباح، الوداع یونس

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ان کے ساتھی کھلاڑی اور ملک کے سب سے کامیاب بیٹسمین یونس خان نے ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کو الوادع کہا۔

42 سالہ مصباح اور 39 سالہ یونس نے 66 ٹیسٹ میچوں کی 52 اننگز میں ایک دوسرے کے رفاقت میں 69.67 کی اوسط سے 3205 رنز بنائے اور15 اننگز میں سنچری کی شراکت بھی قائم کی۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصباح الحق نے اپنے کیرئر کا پہلا میچ 2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ کے مقام پر کھیلا تھا جہاں انھوں نے پہلی اننگز میں 28 اور دوسری میں 10 رنز بنائے تھے۔ یہی ٹیسٹ یونس خان کے کیریر کا دسواں میچ تھا جس میں انھوں نے شاندار بیٹنگ کی اور پہلی اننگز میں 91 اور دوسری میں 149 رنز سکور کیے تھے۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصباح تو پانچ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد خراب فارم کی وجہ سے ٹیم سے باہر کر دیے گئے لیکن یونس خان نے اپنی کارکردگی جاری رکھی اور انڈیا کے خلاف 2005 میں بنگلور کے مقام پر اپنی پہلی ڈبل سنچری سکور کی۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2007 میں مصباح الحق کی پاکستانی ٹیم میں واپسی ہوئی اور انڈیا کے دورے میں انھوں نے چار سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ میچ حصہ لیا اور شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دورے میں دو سنچریاں بھی سکور کیں۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یونس خان بیٹنگ میں اپنا لوہا منواتے رہے اور مارچ 2009 میں سری لنکا کے خلاف ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے انھوں نے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ٹرپل سنچری بنائی۔ پاکستان کی جانب سے وہ ٹرپل سنچری کرنے والے تیسرے بیٹسمین تھے۔

یہ وہی سیریز تھی جس کے اگلے میچ میں سری لنکا کی ٹیم پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے باہر حملہ ہوا تھا جس کے بعد سے لے کر آج تک پاکستان میں دوبارہ کبھی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا ہے۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد پاکستان کی ٹیم کی ازسر نو تعمیر کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔ اس تقرری سے ایک قبل کے عرصے میں پاکستان کی کپتانی چار کھلاڑی کر چکے تھے اور ٹیم انتہائی بے یقینی کی حالات سے گزر رہی تھی۔

اس موقعے پر مصباح نے ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی اور جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارت میں کھیلی گئی سیریز میں پاکستان کو برابری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی سیریز میں یونس خان اور مصباح الحق کی جوڑی نے پہلی دفعہ 100 رنز کی شراکت قائم کی اور ایک یقینی شکست سے پاکستان کو بچایا۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2012 میں انگلینڈ کو 0-3 سے شکست دینے کے بعد 2014 میں پاکستان نے آسٹریلیا کو دو صفر سے شکست دے کر 20 سال میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست سے ہمکنار کیا۔ اس سیریز میں بھی یونس خان اور مصباح کی کارکردگی زبردست رہی۔

یونس خان نے تین میچوں میں چار سنچریوں کی مدد سے 596 رنز بنائے جبکہ مصباح الحق نے تین سنچریوں کی مدد سے 373 رنز بنائے۔ ان کی اس کارکردگی میں ٹیسٹ میچوں کی تیز ترین نصف سنچری اور مشترکہ دوسری تیز ترین سنچری بھی شامل ہے۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2016 میں دورہ انگلینڈ میں لارڈز کے مقام پر کھیلے گئے پہلے میچ میں مصباح الحق نے شاندار سنچری بنائی اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ چار میچوں کی سیریز دو دو کی برابری کے ساتھ ختم ہوئی جس کے بعد پاکستان ٹیسٹ میچوں کی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر آگیا۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگست 2016 میں پاکستان اپنی تاریخ میں پپہلی دفعہ ٹیسٹ میچوں کی درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متحدہ عرب امارت میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی سیریز مصباح اور یونس خان کے کیرئر کی پاکستان کے ’عارضی ہوم گراؤنڈ‘ پر آخری سیریز تھی۔ پاکستان نے یہ سیریز دو ایک سے جیت لی۔

مصباح کی قیادت میں پاکستان نے متحدہ عرب امارت میں 2010 کے بعد سے کھیلی گئی کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں شکست نہیں کھائی۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری سیریز کھیلنے سے پہلے ہی یونس خان پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں بنانے والے بیٹسمین تھے۔

لیکن سیریز کے پہلے میچ میں انھوں نے وہ کارنامہ سر انجام دیا جو ان سے پہلے صرف 12 اور بیٹسمینوں نے دیا تھا: ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کا ہندسہ عبور کرنا۔

جمیکا میں کھیلے گئے پہلے میچ میں یونس خان نے جب 23 رنز بنائے تو وہ پہلے پاکستانی بن گئے جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار بنائے ہوں۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں جب یونس خان اپنی آخری ٹیسٹ اننگز میں 35 کے سکور پر آؤٹ ہو گئے تو اس کے بعد پاکستان کے تقریباً تمام بڑے بیٹنگ ریکارڈز انھی کے نام تھے لیکن ان میں سب سے اہم اعزاز سب سے زیادہ رنز اور سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا رہے گا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کے سب سے قابل اعتماد فیلڈر اور سب سے زیادہ کیچز لینے والے کھلاڑی بھی ہیں۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصباح الحق نے اپنے کیرئر کا 75واں اور آخری میچ کھیلا جس میں وہ قابل ذکر سکور تو نہیں کر سکے لیکن ان کی کپتانی میں ٹیم ویسٹ انڈیز کو ان کے میدان پر سیریز میں شکست دینے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصباح اور یونس کی جوڑی کا سفر 66 ٹیسٹ میچوں کے بعد اتوار کو ختم ہو گیا۔