مصباح کے پاس یونس تھا اور یونس کے پاس مصباح

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یونس خان کی کپتانی میں پاکستن نے 200 میں ٹی ٹوئنٹی کا ورلڈ کپ جیتے

گذشتہ دنوں کسی کو کہتے سنا یا کہیں پڑھا تھا کہ یاد رکھیں کہ مصباح الحق ایک کامیاب کپتان رہے ہیں، ’اس کے باوجود کہ ان کے پاس کوئی وقار یا وسیم نہیں تھے۔‘

ان کے پاس تو کوئی میانداد یا سعید انور بھی نہیں تھے، ایک سعید اجمل تھے لیکن ان کے ساتھ جو ہوا وہ ہم سب جانتے ہیں۔

محمد عامر ہو سکتے تھے لیکن مصباح الحق کو پاکستان ٹیم کی باگ دوڑ ہی اس وقت ملی جب محمد عامر سمیت دو دیگر کھلاڑی سپاٹ فکسنگ کے جرم میں جیل جا چکے تھے۔

لیکن مصباح کے پاس یونس خان تھے۔

یونس خان نے اپنی آخری سیریز میں دس ہزار رنز کا سنگ میل عبور کیا اور اس میں سے تقریباً پانچ ہزار رنز انہوں نے مصباح الحق کی قیادت میں ہی بنائے۔ ان میں کئی سنچریاں بھی شامل ہیں۔

یونس کو مصباح کی صورت میں نہ صرف ایسا کپتان ملا جس نے پاکستان کی ٹیم کو نمبر ون ٹیم بنایا بلکہ مڈل آرڈر میں ایک ایسا ساتھی ملا جن کے ساتھ مل کر انھوں نے 15 اننگز میں سنچری کی شراکت قائم کی۔

کپتانی کا دباؤ

یونس خان مصباح کے بھی کپتان رہے ہیں اور انہی کی کپتانی میں پاکستان نے 2009 میں برطانیہ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اپنے کپتانی کے مختصر سے دور میں یونس خان کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا۔ مصباح نے ایشیا کپ جیتا، ٹیسٹ سیریز میں کامیابیاں حاصل کیں لیکن انہیں اپنی کپتانی میں کوئی عالمی مقابلہ جیتنے کا موقع نہیں ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصباح الحق اور یونس خان نے 15 اننگز میں سنچری کی شراکت قائم کی۔

یونس خان مصباح سے 43 ٹیسٹ میچ سینیئر ہیں اور ان کے رنز بھی مصباح سے دگنے ہیں لیکن مصباح نے اس میں سے بیشتر رنز اپنی ہی کپتانی کے ’دباؤ‘ میں بنائے۔

مصباح کو ایک بہت ہی دھیمے مزاج والا اور کئی مرتبہ تو انھیں ’ٹھنڈا‘ کپتان کہا گیا، ان کی بیٹنگ کی رفتار پر تنقید ہوئی لیکن وہ 'ٹک ٹک' کرتے پاکستان کو سہارا دیتے گئے اور کامیابیاں دھیرے دھیرے ان کے قدم چومتی گئیں۔

یونس خان کا کپتانی سے تعلق کوئی اچھا نہیں رہا، کبھی انہوں نے خود انکار کیا، کبھی غصہ آڑے آیا اور کبھی کھلاڑیوں کی بغاوت کی باتیں ہوئیں۔

کرک انفو کے عثمان سمیع الدین کے کالم میں یونس خان کہتے ہیں کہ انھیں کسی چیز کا کوئی پچھتاوا نہیں، ’جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اور شاید اگر میں کپتان رہتا تو اتنا سکور نہ کر پاتا کیوں کہ کپتان کی اور بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔‘

اگر ایسا ہے تو اچھا ہی ہوا کیوں کہ یونس خان نے کپتانی کے دباؤ کے بغیر پاکستان کے لیے دس ہزار رنز بنائے اور دنیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل ہو گئے۔

ویسٹ انڈیز میں آخری میچ کے بعد مصبح الحق نے یونس خان کا خاص شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا مڈل آڈر میں یونس خان کے ساتھ سفر خوب گزرا۔

اگر پاکستان کے پاس مصباح الحق کی صورت میں ایک ایسا کپتان تھا جس نے کپتانی اور بیٹنگ دونوں کے دباؤ کو بخوبی سنبھالا تو یونس خان کے پاس مڈل آرڈر میں مصباح الحق تھے جن کے ساتھ مل کر انہوں نے تین ہزار سے زیادہ رنز بنائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں