ماریا شیراپووا کو فرینچ اوپن میں وائلڈ کارڈ انٹری نہ دینے کا فیصلہ

ماریا شراپووا تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ٹینس کے ٹورنامنٹ فرینچ اوپن کی انتظامیہ نے دو مرتبہ کی عالمی چیمپیئن ماریا شیراپووا کو ٹورنامنٹ میں وائلڈ کارڈ انٹری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اب وہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے پائیں گی۔

روس سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ ماریا شیراپووا کم ترین عالمی درجہ بندی پر ہونے کے باعث اس ٹورنامنٹ میں براہ راست انٹری حاصل نہیں کر پائی تھیں جس کی وجہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کے جرم میں ان پر لگنے والی 15 ماہ کی پابندی تھی۔

'دھوکے باز شراپووا کو کھیلنے نہیں دینا چاہیے'

فرینچ ٹینس فیڈریشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’انجری کے بعد واپسی کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے تو وائلڈ کارڈ انٹری ہے لیکن ڈوپنگ کے جرم میں سزا کاٹنے کے بعد آنے والوں کے لیے وائلڈ کارڈ نہیں۔‘

خیال رہے کہ ٹینس کے فرینچ اوپن مقابلوں کا آغاز 28 مئی سے ہو رہا ہے۔

ماریا شیراپووا کو توقع تھی کہ انھیں یا تو مین ایونٹ میں وائلڈ کارڈ انٹری دی جائِ گی یا پھر کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کے لیے۔

تاہم فرینچ ٹینس فیڈریشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’میں ماریا شیراپووا سے معذرت خواہ ہوں اور ان کے مداحوں سے بھی معذرت چاہتا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انچ مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والی شرپووا کو مارچ 2016 میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام کے بعد انھیں معطل کر دیا گيا تھا

’ان کے مداحوں کو افسوس ہوگا، ماریا شیراپووا کو بھی افسوس ہوا ہوگا، لیکن یہ میری ذمہ داری ہے، کھیلے جانے والے تمام میچز کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا اور ان کے نتائج پر شکوک نہ پیدا ہونے دینا میرا مشن ہے۔‘

اس سے قبل گذشتہ دنوں ومبلڈن 2014 کا فائنل کھیلنے والی کینیڈا کی ٹینس کھلاڑی یوجین بوشارڈ کا کہنا تھا کہ ماریا شراپووا جیسی 'دھوکے باز' کھلاڑی کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ پانچ مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والی شرپووا کو مارچ 2016 میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام کے بعد معطل کر دیا گيا تھا اور اس ٹورنامنٹ کے لیے انھیں وائلڈ کارڈ دیا گيا تھا۔

ماریہ شراپووا نے 17 برس کی عمر میں اپنا پہلا گرینڈ سلام 2004 میں جیتا تھا جبکہ آخری گرانڈ سلیم فرینچ اوپن 2014 میں جیتا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں